ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 247

مسئلہ کی بدعت ایجاد کی اور اس کی ایک آنکھ ہی تھی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ اس کا حُلیہ بیان کیا ہے ممکن ہے کہ مکاشفہ میں آپؐکو وہی دکھایا گیا ہو اور اس کے متّبعین نے ہی یہ تمام ایجادیں کی ہیں جس کو دجّال کی صنعت اور کارناموں کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔ہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔تقدیر معلَّق و مبرم صدقات و خیرات سے بَلا کے ٹلنے کا ذکر ہوا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہاں یہ بات ٹھیک ہے۔اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تقدیر کے دو حصّے کیوں ہیں تو جواب یہ ہے کہ تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ بعض وقت سخت خطرناک صورتیں پیش آتیں ہیں اور انسان بالکل مایوس ہوجاتا ہے لیکن دعا و صدقات و خیرات سے آخر کار وہ صورت ٹل جاتی ہے۔پس آخر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اگر معلّق تقدیر کوئی شَے نہیں ہے او جو کچھ ہے مبرم ہی ہے تو پھر دفعِ بَلا کیوں ہوجاتا ہے؟ اور دعا و صدقہ و خیرات وغیرہ کوئی شَے نہیں ہے۔بعض ارادے الٰہی صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ انسان کوایک حد تک خوف دلایا جاوے اور پھر صدقہ و خیرات جب وہ کرے تو وہ خوف دور کردیا جاوے۔دعا کا اثر مثل نر و مادہ کے ہوتا ہے کہ جب وہ شرط پوری ہو اور وقت مناسب مل جاوے اور کوئی نقص نہ ہو تو ایک اَمر ٹل جاتا ہے اور جب تقدیر مُبرم ہو تو پھر ایسے اسباب دعا کی قبولیت کے بہم نہیں پہنچتے۔طبیعت تو دعا کو چاہتی ہے مگر توجہ کامل میسر نہیں آتی اور دل میں گداز پیدا نہیں ہوتا۔نماز سجدہ وغیرہ جو کچھ کرتا ہے اس میں بد مزگی پاتا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام بخیر نہیں اور تقدیر مُبرم ہے۔۱ اس مقام پر ایک نے عرض کی کہ جب نواب محمد علی خان صاحب کا صاحبزادہ سخت بیمار ہوا تھا تو ۱الحکم سے۔’’صدقہ۔صدق سے لیا گیا ہے۔جب کوئی خدا کی راہ میں صدقہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا سے صدق رکھتا ہے۔دوسرا دعا۔دعا کے ساتھ قلب پر سوز و گداز اور رقّت پیدا ہوتی ہے۔دعا بھی ایک قربانی ہے۔صدق اور دعا اگر یہ دو باتیں میسر آجاویں تو اکسیر ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۴ءصفحہ ۱۲)