ملفوظات (جلد 6) — Page 246
چاٹ جاتے ہیں۔‘‘ اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک نصاریٰ کا وہ طعام حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو اور از روئے قرآن مجید کے وہ حرام نہ ہو۔ورنہ اس کے یہی معنے ہوں گے کہ بعض اشیاء کو حرام جان کر گھر میں تو نہ کھایا مگر باہر نصاریٰ کے ہاتھ سے کھا لیا۔اور نصاریٰ پر ہی کیا منحصر ہے اگر ایک مسلمان بھی مشکوک الحال ہو تو اس کا کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔مثلاً ایک مسلمان دیوانہ ہے اور اسے حرام و حلال کی خبر نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے طعام یا طیار کردہ چیزوں پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔اسی لیے ہم گھر میں ولایتی بسکٹ نہیں استعمال کرنے دیتے بلکہ ہندوستان کی ہندو کمپنی کے منگوایا کرتے ہیں۔عیسائیوں کی نسبت ہندوؤں کی حالت اضطراری ہے کیونکہ یہ کثرت سے ہم لوگوں میں مل جل گئے ہیں اور ہر جگہ انہیں کی دوکانیں ہوتی ہیں۔اگر مسلمانوں کی دوکانیں موجود ہوں اور سب شَے وہاں ہی سے مل جاوے تو پھر البتہ ان سے خوردنی اشیاء نہ خریدنی چاہئیں۔علاوہ ازیں میرے نزدیک اہلِ کتاب سے غالباً مراد یہودی ہی ہیں کیونکہ وہ کثرت سے اس وقت عرب میں آباد تھے اور قرآن شریف میں بار بار خطاب بھی انہیں کو ہے۔اور صرف توریت ہی کتاب اس وقت تھی جو کہ حلّت اور حرمت کے مسئلے بیان کر سکتی تھی اور یہود کا اس پر اس اَمر میں جیسے عملدرآمد اس وقت تھا ویسے ہی اب بھی ہے انجیل کوئی کتاب نہیں ہے۔اس پر ابو سعید صاحب نے عرض کی کہ اہل الکتاب میں کتاب پر الف لام بھی اس کی تخصیص کرتا ہے جس سے یہ مسئلہ اور بھی واضح ہوگیا۔دجّال شخص واحد بھی ہو سکتا ہے ہمارے محترم بھائی خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کی کہ دجّال کے متعلق جو کچھ حضور نے بیان فرمایا ہے وہ بالکل حق ہےلیکن ایک دن میرے ذہن میں یہ بات گذری کہ دجّال ایک شخص واحد بھی گذرا ہے اور اس وقت جو دجّال موجود ہے وہ اس کا ظِل اور اثر ہے کیونکہ موجودہ عیسویت دراصل وہ عیسویت نہیں ہے جو حضرت مسیح نے تعلیم کی بلکہ یہ پولوس کا مذہب ہے جس نے ہر ایک حرام کو حلال کر دیا اور کفارہ وغیرہ کے