ملفوظات (جلد 6) — Page 17
ڈاک خانہ اور محکمہ ریل کی کتابیں بھی گواہ ہیں۔پھر کیا یہ معمولی نظر سے دیکھی جانے کے قابل باتیں ہیں ایسے ایسے صدہا نہیں ہزاروں نشان ہیں۔اب ان نشانوں کے ہوتے ہوئے میں خدا تعالیٰ کا انکار کروں اور اس کی باتوں کو چھوڑدوں!!! یہ کبھی نہیں ہوسکتا خواہ میری جان بھی چلی جاوے۔پھر ان نشانات کو الگ رکھو میں تو اپنے اللہ تعالیٰ پر ایسا یقین رکھتا ہوں اور اس کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی چالیس دن میرے پاس رہے تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی نشان دیکھ لے گا۔ہماری جماعت اس بات کی گواہ ہے اور ان میں شائد ایک بھی ایسا آدمی نہ نکلے گا جس نے کوئی نہ کوئی نشان نہ دیکھا ہو پھر آپ ہی بتائیں کہ خدا کی راہ کو چھوڑ کر میں کس کی بات سُن سکوں۔اس کے مقابل میں جلتی ہوئی آگ میں کُود پڑنامیرے لیے آسان ہے مگر اس کو چھوڑنا مشکل ہے۔دیکھو! وہ لوگ جو ہمارے ساتھ ہیں ان کی روحیں ان برکات کومحسوس کرتی ہیں جو اس سلسلہ میں داخل ہونے سے ان کو ملی ہیں مگر وہ لوگ جو امام حسینؓ کی پُوجا کرتے ہیں اور ان کے چال چلن کو اختیار نہیں کرتے اور ان کا اتباع نہیں کرتے وہ یاد رکھیں کہ قیامت کو امام حسینؓ سے الگ بٹھائے جائیں گے اور ان سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔نواب صاحب۔(شیعہ ہیں )ہم تو حضرت امام حسینؓ کو سجدہ نہیں کرتے البتہ نواسہ رسول سمجھ کر مانتے ہیں۔حضرت اقدس۔حضرت امام حسینؓ کے نواسہ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا شہید ہونے میں تو کوئی کلام نہیں ہے اور اسی حد تک ان کو مانناکسی خرابی کا باعث نہیں ہوا بلکہ ان کی شان میں بہت بڑا غلو کیا گیا ہے۔میرے ایک اُستاد بھی شیعہ تھے جو آپ کے ہاں بھی جایا کرتے تھے۔مجھے بہت سا موقع ملا ہے کہ میں اس غلو کا اندازہ کروں جو وہ امام حسینؓ کی نسبت کرتے ہیں۔وہ اتنا ہی ہرگز نہیں مانتے کہ وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ تھے یا شہید ہوئے بلکہ وہ حاجت روا اور مشکل کُشا مانتے ہیں۔لیکن آپ یاد رکھیں کہ جب تک وہ طریق اختیار نہ کیا جاوے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور جس پر حضرت علیؓ اور حضرت امام حسینؓ نے قدم مارا تھا۔کچھ بھی نہیں مل سکتا۔یہ تعزئیے بنانا