ملفوظات (جلد 6) — Page 238
مومنوں کے طبقات بیان کرتا ہے۔مِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ (فاطر:۳۳) کہ بعض ان میں سے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ رو اور بعض سبقت کرنے والے۔دوسری یہ بات ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تو ترقی آہستہ آہستہ ہی کی تھی۔ایمان میں بھی اور عمل میں بھی۔لکھا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ایک صحابی سے آپ نے ایک ٹکڑا زمین کا (مسجد)۱ بنانے کے لیے طلب کیا۔اس نے عذر کیا اور کہا کہ مجھ کو آپ درکار ہے۔اب یہ کس قدر گناہ کی بات تھی کہ خدا کا رسول مسجد کے لیے زمین طلب کرے اور یہ باوجود مرید ہونے کے اپنی نفسانی ضرورت کو دین کی ضرورت پر ترجیح دیتا ہے لیکن آخر وہی صحابہؓ تھے کہ جنہوں نے اللہ کے لیے اپنے سر کٹوائے۔ترقی ہمیشہ رفتہ رفتہ ہوتی ہے۔ایک سال انسان کچھ کرتا ہے، دوسرے سال کچھ لیکن اگر بدظنّی کریں تو اس کی مثال یہ ہوگی کہ ایک مریض ہمارے پاس آتا ہے جوکہ طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہے اور ہم اسے ایک دو دن دوا دے کر نکال دیں اور پورے طور پر لگ کر اس کا علاج نہ کریں۔ہمارا کام تو رات دن ان کے لیے دعا، تضرّع اور ابتہال میں لگا رہنا ہے۔مبلّغین کا یہ کام نہیں ہوتا کہ ہر ایک بات پر چڑ کر لوگوں سے متنفّر ہوتے رہیں۔ابھی یہ لوگ قابلِ رحم ہیں اور خدا تعالیٰ ان کی اصلاح کے سامان کر رہا ہے۔علاوہ ازیں سب ایک درجہ کے نہیں ہوتے۔صحابہؓ میں سے بعض اس درجہ کے تھے کہ عنقریب نبی کے مقام پر پہنچ جاویں اور بعض ادنیٰ درجہ کے جیسے دریا میں موتی بھی ہوتا ہے اور مونگا بھی اور سیپ بھی اور دوسری اشیاء مثل سونا اور دوسرے حیوانات کے، ایسا ہی جماعت کا حال ہوتا ہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لیے دعا کریں لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے دور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔کون سا ایسا عیب ہے جو کہ دور نہیں ہو سکتا۔اس لیے ہمیشہ دعا کے ذریعہ سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہیے۔سجد کا لفظ اصل میں موجود نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کاتب سے رہ گیا ہے۔بعد کے فقرات اس کی وضاحت کر دیتے ہیں