ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 234

۱۹؍جون ۱۹۰۴ء (بوقتِ ظہر) متقی کون ہے؟ ایک مولوی صاحب جن کے والد بزرگوار احمدی جماعت میں داخل تھے اور بقضائے الٰہی فوت ہوگئے۔علاقہ گوجرانوالہ سے تشریف لائے ہوئے تھےان کو حضرت اقدس سے ارادت حاصل نہ تھی اور نہ اپنے والد مرحوم کو صراطِ مستقیم پر سمجھتے تھے۔چند احباب کی تحریک سے وہ بحث و مباحثہ کی غرض لے کر یہاں آئے تھے۔حضرتِ اقدس کے رو برو تو ان کی کوئی کلام ہم نے نہ سنی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب سے البتہ کلام کرتے رہے۔جس میں نووارد مولوی صاحب نے یہ کہا کہ ہمارے نزدیک بہت سے متقی ہیں کہ جنہوںنے مرزا صاحب کو نہیں مانا اور چونکہ ہم ان کو متقی اور راستباز تسلیم کرتے ہیں، اس لیے ہم بھی نہیں مانتے۔حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب نے اس کا جواب یہ دیا کہ اگر کوئی ایسا شخص ہے کہ جو ضد اور تعصّب وغیرہ سے تو پاک ہے اور سچی ارادت سے حق کا طالب ہے اور اس لیے کسی شخص کو متقی مان کر اس کی تقلید سے وہ حضرت امام علیہ السلام کا منکر ہے تو میرے نزدیک وہ اس وقت تک معذور ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر حقیقت کو واضح نہ کر دے کیونکہ مؤاخذہ کے لیے ضروری ہے کہ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ(البقرۃ:۲۵۷) ہو۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے لِيَـهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْيٰى مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ(الانفال:۴۳) جو ہلاک ہو وہ بھی بیّن آیات دیکھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ ہو وہ بھی بیّن آیات دیکھ کر زندہ ہو۔نو وارد مولوی صاحب نے چاہا کہ اس کی تصدیق حضرت مرزا صاحب سے کرائی جاوے، اس لیے جناب حکیم صاحب نے بوقتِ ظہر اس مسئلہ کو حضرت امام علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں عرض کیا جس پر آپؑنے فرمایا کہ اس قسم کا سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوا تھا تو انہوں نے جواب دیا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ (طٰہٰ :۵۳) ایسے ہی ہم بھی کہتے ہیںکہ ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔وہ جیسے جیسے سمجھے گا ویسا معاملہ اس سے کرے گا۔ہاں کوئی آدمی کسی کو متقی کیوںکر یقین کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لَا تُزَكُّوْۤا