ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 233

۱۵؍جون ۱۹۰۴ء حقیقی تہذیب صنعت و حرفت میں دسترس حاصل کرنے، سیروسیاحت میں قوم کے افراد کو مشغول رہنے۔لنڈن ہو آنے، مشینوں میں ترقی کرنے وغیرہ کو آجکل تہذیب کے نام سے نامزد کیا جاتا ہے۔اور جب کسی قوم میں یہ باتیں ہوں تو اسے ایک مہذّب قوم کہتے ہیں یہ ذکر ایک صاحب نے حضرت اقدسؑ کی مجلس میں آج کیا۔اس پر آپؑنے فرمایا کہ جس قوم میں راستی کا پیار نہیں۔اعمال میں للّٰہیت نہیں اور ریاکاری اور خود پسندی ان کا شیوہ ہے اسے مہذّب نہیں کہہ سکتے۔تہذیب کے اصول اخلاص، صدق اور توحید ہیں۔وہ سوائے اسلام کے اور کسی دوسرے مذہب میں نہیں مل سکتے۔عیسائیوں کو اَخلاق کا بڑا ناز ہے مگر ان کی جو بات دیکھو اسی میں گناہ ہے۔کوئی عمل ہو اس میں ریاکاری ضرور ہے حالانکہ خُلق وہ ہے جو لِلہ ہو۔خدا کی عظمت، اس پر ایمان اور نوعِ انسان کی خدمت یہ باتیں خُلق کی ہیں لیکن یہاں خدا کی جگہ تو ایک یسوع نامی کو دے دی گئی ہے اور مخلوق کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ ظاہر ہے۔بات یہ ہے کہ جب خدا کو شناخت ہی نہیں کیا تو اس پر نظر رکھ کر کسی کی خدمت کیا کر سکتے ہیں۔سچے خُلق کا برتاؤ بہت مشکل ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک قویٰ کو بر محل برتا جاوے اور خدا سے ڈر کر وہ اپنی حد پر رہیں لیکن ایمان کے سوا یہ باتیں حاصل نہیں ہوتیں۔ثواب اس کو ملا کرتا ہے جو خدا سے ڈر کر گناہ کو چھوڑتا ہے یا اس کو راضی کرنے کی محنت برداشت کر کے ایک نیکی کو کرتا ہے اور جب تک یہ نیت نہیں ہوتی تب تک ہرگز ثواب نہیں ملتا اگرچہ وہ کام بذاتِ خود نیک ہی ہو۔ہندو لوگ بتوں کی خاطر کیا کیا کرتے ہیں۔کتنی محنتیں اٹھاتے ہیں مگر سب کی سب رائیگاں جاتی ہیں۔۱ البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۶