ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 16

نے پہچانا تھا۔میں اب اس دامن کوکیسے چھوڑ سکتا ہوں۔اس دروازہ کو چھوڑ کر اَور کسی جگہ میں کیوں کر جاسکتا ہوں۔براہین احمدیہ چوبیس برس پہلے کی چھپی ہوئی کتاب موجود ہے وہ شیعوں کے پاس بھی ہے گورنمنٹ کے پاس بھی کاپی ہے اس کو کھول کر پڑھو کہ کس قدر نشان اس میں دیئے گئے تھے اور وہ اس وقت دیئے گئے تھے کہ جب کسی کے وہم وگمان میں بھی وہ باتیں نہ آسکتی تھیں کہ ایسا ہو جائے گا مثلاً اُس میں لکھا ہے کہ آج تو اکیلا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے کہ فوج درفوج لوگ تیرے ساتھ ہوں گے۔دنیا دار مقابلہ کریں گے مگر وہ اس مقابلہ میں ناکام رہیں گے اور میں تجھے کامیاب کروں گا۔اب کوئی مخالف اس کا جواب دے کہ کیا اس طرح پر نہیں ہوا۔جب براہین احمدیہ شائع ہوئی ہے تو سارے ملک میں کوئی آدمی نہیں تھا جو مجھے جانتا ہو۔قادیان سے باہر کسی کو کچھ پتا نہ تھا۔لیکن اب دیکھ لو کہ کس قدر رجوع دنیا کا ہو رہا ہے اور اس ملک سے نکل کر امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ تک اس سلسلہ کی شہرت ہوگئی ہے کیا لوگوں کو اس سلسلہ میں داخل ہونے سے اور روکنے کے واسطے کوششیں نہیں کی گئی ہیں۔کفر کے فتوے دئیے گئے۔قتل کے مقدمے بنائے گئے۔جس طرح پر جس کسی کا بس چلا اس نے لوگوں کو باز رکھنا چاہا۔لیکن جس قدر مخالفت کی گئی اسی قدر زور و شور کے ساتھ اس سلسلہ کی اشاعت ہوئی اور آفاق میں اس کا نام پہنچ گیا اسی کے موافق جو خدا نے پہلے فرمایا تھا۔اب ہمیں کوئی جواب دے کہ کیا یہ انسانی کلام ہوسکتا ہے کہ جو بیس برس پیشتر ایسی پیشگوئی کرے اور پھر وہ حرفاً حرفاً پوری ہوجاوے اور وہ پیشگوئی ایسی حالت میں کی جاوے کہ اس وقت کوئی آدمی جاننے والا بھی موجود نہ ہو۔اگر یہ انسانی کلام ہے تو پھر ایسا دعویٰ کرنے والے کو چاہیے کہ اس کی نظیر پیش کرے۔پھر اسی براہین میں درج ہے۔یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ وَیَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَمِیْقٍ۔اگر اس نشان کو دیکھا جاوے تو اپنی جگہ یہ کوئی دس۱۰ لاکھ نشان ہوگا۔ہر آدمی نیا آنے والا مہمان اس نشان کو پورا کرتا ہے اورمختلف دیار وامصارسے خطوط آرہے ہیں، تحائف آرہے ہیں جس کے واسطے