ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 15

یقین نہیں لاتا تو مَرنے کے بعد اس کی حقیقت کھل جائے گی اور خود دیکھ لے گا کہ کون حق پر ہے۔میرے اس دعوے پر کہ میں امام حسینؓ سے افضل ہوں شور مچایا جاتا ہے لیکن اگر پوچھا جاوے کہ آنے والا مسیح حسینؑ سے افضل ہے یا نہیں تو اس کا کیا جواب ہے؟ مشیرِ اعلیٰ۔پھر آپ کے نزدیک کیا ہے؟ حضرت اقدس۔خدا تعالیٰ نے تو مجھے یہی بتایا ہے کہ میں افضل ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں۔اسی طرح آنے والا محمدی مسیح موسوی مسیح سے افضل ہے۔اس وقت آپ انکار کریں تو کریں لیکن مَرنے کے بعد تو سب کچھ ظاہر ہو جائے گا اور پتا لگ جائے گا کہ کون افضل اور حق پر ہے۔میں اگراپنی طرف سے شیخی جتلاتا ہوں تو مجھ سے بڑھ کر کوئی جھوٹا نہیں لیکن اگر کوئی میرے صدق کے نشانات دیکھ کر بھی جھٹلاتا ہے تو پھر اُس کا معاملہ خدا سے ہے۔وہ میری تکذیب نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ اوراس کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔آپ جو کچھ کہتے ہیں بطور مقلّد کے کہتے ہیں۔ذاتی بصیرت آپ کو نہیں ہے لیکن میں جو کچھ کہتا ہوں بطور محقّق کے کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے بصیرت پاکر کہتا ہوں۔میں خدا تعالیٰ کے مکالمات سنتا ہوں۔ہر روز اس سے مخاطبات ہوتے ہیں۔پھر میں ایک نابینا مقلّد کی پیروی کس طرح کروں۔ہاں اگر کوئی امام حسین کو مجھ سے افضل یقین کرتا ہے اور اس کا کوئی الگ خدا ہے تو پھر میں دیکھ لوں گا کہ وہ میرے مقابل اس افضلیت کے کون سے نشان اپنی ذات سے دکھاسکتا ہے۔اگر کوئی نشان نہیں دکھا سکتا اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ کوئی بھی نہیں دکھا سکتا تو پھر میرے لیے جو تحقیق کی راہ کھلی ہے اس کا انکار نا مناسب ہے۔یہ نری کہنے ہی کی باتیں نہیں ہیں۔میری زندگی کا کون ذمہ دار ہوسکتا ہے جبکہ میں براہِ راست خدا تعالیٰ سے سنتا ہوں۔خواہ مجھے دوزخ میں ڈال دیا جائے یا ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے میں اس کی بالکل پروا نہیں کرتا۔میں کبھی اس اَمرِ حق کو نہیں چھوڑ سکتا۔میں نے ان نشانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پہچانا ہے جن نشانوں کے ساتھ آدم، نوح، موسیٰ، ابراہیم علیہم السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم