ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 219

نے متولّی سمجھاہوا تھا وہ خود ایسے کمزور تھے کہ ان کو متولّی سمجھنا میری غلطی تھی کیونکہ انہیں متولّی بنانے میں نہ تو میری ضروریات ہی حاصل ہو سکتی تھیں اور نہ ہی وہ میرے لیے کافی ہو سکتے تھے۔پھر وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور ثابت قدمی دکھانے سے خدا کو اپنا متولّی پاتا ہے اس وقت اس کو بڑی راحت حاصل ہوتی ہے اور ایک عجیب طمانیت کی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے۔خصوصاً جب خدا کسی کو خود کہے کہ میں تیرا متولّی ہوا تو اس وقت جو راحت اور طمانیت اس کو حاصل ہوتی ہے وہ ایسی حالت پیدا کرتی ہے کہ جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔یہ حالت تمام تلخیوں سے پاک ہوتی ہے۔دنیاوی حالتوں میں انسان تلخی سے خالی نہیں ہوسکتا۔دشتِ دنیا کانٹوں اور تلخیوں سے بھری ہوئی ہے۔؎ دشت دنیا جز در و جز دام نیست جز بخلوت گاہِ آرام نیست جن کا اللہ تعالیٰ متولّی ہوجاتا ہے۔وہ دنیا کے آلام سے نجات پا جاتے ہیں اور ایک سچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہوجاتےہیں۔ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(الطلاق:۳،۴) جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہر ایک بَلا اور اَلم سے نکال لیتا ہے اور اس کےرزق کا خود کفیل ہوجاتا ہے اور ایسے طریق سے دیتا ہے کہ جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔دنیا میں کئی قسم کے جرائم ہوتے ہیں۔بعض جرائم قانون کی حد میں آسکتے ہیں اور بعض قانون کی حد میں بھی نہیں آسکتے۔گناہ، خون اور نقب زنی وغیرہ جب کرتا ہے تو ان کی سزا قانون سے پاسکتا ہے۔لیکن جھوٹ وغیرہ جو معمولی طور پر بولتا ہے یا بعض حقوق کی رعایت نہیں رکھتا وغیرہ ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کے لیے قانون تدارک نہیں کرتا لیکن اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اس کو راضی کرنے کے لیے جو شخص ہر ایک بدی سے بچتا ہے اس کو متقی کہتے ہیں۔یہ وہی متقی ہے جس کی آج عدالت میں بحث تھی۔ایک مولوی عدالت میںاز طرف کرم دین مستغیث گواہ تھا اور اس پر جرح تھی۔اثنائے جرح میں اس نے بحلف بیان کیا کہ ایک شخص زنا بھی کرے، جھوٹ بولے یا خیانت کرے، دغا دے، فریب کرے وغیرہ وغیرہ تو پھر بھی وہ متقی ہی رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو متقی کے لیے وعدہ کرتا ہے کہ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ