ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 218

سمجھتا اور کامل صلاح اور تقویٰ اختیار نہیں کرلیتا تو اس وقت تک وہ حقیقی راحت دستیاب نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ(الاعراف:۱۹۷) یعنی جو صلاحیت اختیار کرتے ہیں خدا ان کا متولّی ہوجاتا ہے۔انسان جو متولّی رکھتا ہے اس کے بہت بوجھ کم ہوجاتے ہیں۔بہت ساری ذمہ داریاں گھٹ جاتی ہیں۔بچپن میں ماں بچے کی متولّی ہوتی ہے تو بچے کو کوئی فکر اپنی ضروریات کا نہیں رہتا۔وہ خود ہی اس کی ضروریات کی کفیل ہوتی ہے۔اس کے کپڑوں اور کھانے پینے کے خود ہی فکر میں لگی رہتی ہے۔اس کی صحت قائم رکھنے کا دھیان اسی کو رہتا ہے۔اس کو نہلاتی اور دھلاتی ہے اور کھلاتی اور پلاتی ہے۔یہاں تک کہ بعض وقت اس کو مار کرکھانا کھلاتی اور پانی پلاتی اور کپڑا پہناتی ہے۔بچہ اپنی ضرورتوں کو نہیں سمجھتا بلکہ ماں ہی اس کی ضرورتوں کو خوب سمجھتی اور ان کو پورا کرنے کے خیال میں لگی رہتی ہے۔اسی طرح جب ماں کی تولّیت سے نکل آئے تو انسان کو بالطبع ایک متولّی کی ضرورت پڑتی ہے۔طرح طرح سے اپنے متولّی اور لوگوں کو بناتا ہے جو خود کمزور ہوتے ہیں اور اپنی ضروریات میں غلطاں ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کی خبر نہیں لے سکتے۔لیکن جو لوگ ان سب سے منقطع ہوکر اس قسم کا تقویٰ اور اصلاح اختیار کرتے ہیں ان کا وہ خود متولّی ہوجاتا ہے اور ان کی ضروریات اور حاجات کا خود ہی کفیل ہوجاتا ہے۔انہیں کسی بناوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔وہ اس کی ضروریات کو ایسے طور سے سمجھتا ہے کہ یہ خود بھی اس طرح نہیں سمجھ سکتا اور اس پر اس طرح فضل کرتا ہے کہ انسان خود حیران رہتا ہے۔گر نہ ستانی بہ ستم مے رسد والی نوبت ہوتی ہے۔لیکن انسان بہت سے زمانے پالیتا ہے جب اس پر ایسا زمانہ آتا ہے کہ خدا اس کا متولّی ہوجائے یعنی اس کو خدا کی تولّیّت حاصل کرنے سے پہلے کئی متولّیوں کی تولّیّت سے گذرنا پڑتا ہے۔جیسا کہ خدا فرماتا ہے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ اِلٰهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ(النّاس:۲تا۷) پہلے حاجت ماں باپ کی پڑتی ہے پھرجب بڑا ہوتا ہے تو بادشاہوں اور حاکموں کی حاجت پڑتی ہے پھر جب اس سے آگے قدم بڑھاتا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں