ملفوظات (جلد 6) — Page 214
فرماتا ہے کہ لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمَقَامُ۔یعنی قادیان مُهْلِكُوْهَا میں داخل کر دیا جاتا لیکن صرف تمہاری تکریم اور تعظیم سے اس کو مُهْلِكُوْهَا میں داخل نہیں کیا گیا جو بچے ہیں اور جو بچیں گے وہ تمہارے اکرام کی وجہ سے بچیں گے۔یہ تو قرآن کے بالکل مخالف ہے کہ قادیان عذاب طاعون سے بالکل محفوظ رہے۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ(الرّعد:۱۲) دوسری طرف اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ کے اگر یہ معنے ہوںکہ قادیان بالکل بچ گئی تو ان دونوں کے درمیان تضاد واقع ہوتا ہے۔دو ضدیں جمع نہیں ہوسکتیں۔ہم نے کبھی اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ کے یہ معنی نہیں سمجھے طاعون تو دنیا کی ہر ایک بستی میں آئے گی۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ جہاں کسی نے دعویٰ کیا کہ فلاں مقام میں طاعون نہیں تو اسی جگہ وہ ظاہر ہوجاتی ہے۔دہلی والوں نے بڑے زور سے لکھا تھا کہ دو وجوہ سے وہاں طاعون نہیں آتی اور نہ آئے گی۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں کے لوگ بہت صفائی رکھتے ہیں۔دوسرے مچھروں کا وہاں نہ ہونا۔اب گزٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی طاعون آگئی۔لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سر زمین میں ایسے اجزا ہیںکہ اس میں طاعونی کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن وہاں بھی طاعون نے آن ڈیرا ڈالا ہے۔ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے لیکن سالہاسال کے بعد لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔کئی لوگ اور دیہات بالکل تباہ ہوجائیں گے۔دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ جائے گا اور ان کے آثار تک باقی نہ رہیں گے۔لیکن یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہ ہوگی۔یہ ایک لمبی بیماری ہے عمروں تک چلی جاتی ہے۔بڑے بڑے قطعے اسی نے برباد کر کے جنگل کر دیئے۔شہروں کے شہر ویرانے بنا دیئے۔سینکڑوں کوس ایسے غیر آباد کئے کہ جانور بھی زندہ نہ رہے۔اس کے آگے تو بڑے بڑے شہر بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔بڑے سے بڑے آباد شہر کو بھی اگر چاہے تو دو تین دن میں صاف کر سکتی ہے۔۱