ملفوظات (جلد 6) — Page 213
نہ رہے گا۔لوگ تلاش کرتے پھریں گے کہ اس جگہ فلاں بستی آباد تھی۔لیکن پھر بھی پتا نہ ملے گا۔گویا طاعون وہاں جاروب دےکر اس کو دنیا سے صاف کر دے گی اور کوئی آثار اس کے نہ چھوڑے گی۔بعض قریئے ایسے ہوں گے کہ جن کو کم و بیش عذاب کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔اور صفحہءِ دنیا سے ان کا نام نہ مٹایا جائے گا صرف سرزنش کے طور پر کچھ عذاب ان میں نازل کیا جائے گا اور تازیانہ کر کے عذاب ہٹا لیا جائے گا۔دوسرے بہت سے شہر فنا ہوں گے مگر وہ فنا نہ ہوں گے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قادیان کو اسی قسم میں شامل کیا ہے اور اس الہام اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ سے مراد یہی ہے کہ اور بستیوں کی طرح ہمارے گاؤں کو طاعون جارف بالکل تباہ نہ کرے گی کہ لوگ تلاش کرتے پھریں کہ کہاں قادیان واقع تھی۔اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ان بستیوں کی طرح خدا اس کو تباہ نہ کرے گا بلکہ یہ بچی رہے گی اِلّا بطور تازیانہ کچھ سزا دے کر اس کو بچا لیا جائے گا۔ہم نے بار بار مجلسوں میں بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ سے یہ مراد ہے کہ خدا نے اس قریہ کو پناہ دے دی ہے کہ وہ طاعون جارف سے بچی رہے اور بالکل فنا نہ ہو۔خدا نےیہ وعدہ نہیںکیا کہ باوجود گنہگار ہونے کے اللہ تعالیٰ بغیر عذاب کے چھوڑ دے۔ایک طرف تو قرآن میں یہ لکھا ہے کہ طاعون سے کوئی بستی خالی نہیں رہے گی اور طاعون کی وجہ صرف یہی ہے جو اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ کے الہام سے ظاہر ہے یعنی جب لوگوں نے اپنے افعال اور اعمال سے غضبِ الٰہی کے جوش کو بھڑکایا اور بد عملیوں سے اپنی حالتوں کو ایسا بد ل لیا کہ خوفِ خدا اور تقویٰ و طہارت کی ہر ایک راہ کو چھوڑ دیا اور بجائے اس کے طرح طرح کے فسق و فجور کو اختیار کر لیا اور خدا پر ایمان سے بالکل ہاتھ دھو دیا۔دہریت اندھیری رات کی طرح دنیا پرمحیط ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرے کو ظلمت کے نیچے دبا دیا تو خدا نے اس عذاب کو نازل کیا تا لوگ خدا کے چہرے کو دیکھ لیں اور اس کی طرف رجوع کریں۔بعض بستیاں مُهْلِكُوْهَا میں داخل ہو کر بالکل فنا ہو جائیں گی اور بعض مُعَذِّبُوْهَا میں داخل ہوں گی، لیکن خالی کوئی نہ رہے گی۔قادیان مُهْلِكُوْهَا میں داخل نہ ہوگی۔یہی مراد الہام اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ سے ہے۔گناہوں کی سرزنش کرنے کے لیے خدا نے یہاں بھی طاعون نازل فرمائی۔خدا تو