ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 212

وعدوں پر بھروسہ نہیں کرتا وہ بد ظنّی کرتا ہے جو شخص خدا سے نیک ظن کرتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے بد ظنّی کرتا ہے وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنےلیے کوئی دوسرا معبود بنائے اور شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔جب انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ خدا کریم و رحیم ہے اور اس بات پر ایمان صدق دل سے لاتا ہے کہ اس کے وعدہ ٹلنے کے نہیں تو وہ اس پر جان فدا کرتا ہے اور درپردہ خدا سے عشق رکھتا ہے۔ایسا انسان خدا کا چہرہ اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔طرح طرح سے اس کی مدد کرتا ہے اور اپنے انعامات اس پر نازل کرتا ہےا ور اس کو تسلّی بخشتا ہے اور محبت اور وفا کا چہرہ دکھاتا ہے لیکن بے وفا غدار ہمیشہ محروم رہتا ہے۔۱ ۲۱؍مئی ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور ) طاعون اور الہام اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ بوقت ایک بجے بمقام کچہری گورداسپور درخت جامن کے نیچے بیٹھے ہوئے حکیم نور محمد صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا تھا کہ آپ لوگ احمدی جماعت کے جو یہ کہتے ہیں کہ طاعون سے ہم بچے رہیں گے اس کی وجہ کیا ہے۔حکیم صاحب نے اس کے جواب میں جو کچھ اس نے تقریر کی تھی وہ سنائی پھر اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا(بنی اسـرآءیل:۵۹) یعنی طاعون کا عذاب دو طرح پر ہوگا کوئی بستی اس سے خالی نہیں رہے گی۔بعض تو ایسی ہوں گی کہ جن کو ہم بالکل ہلاک کر دیں گے یعنی وہ اجڑ کر بالکل غیر آباد ہو جائیں گی اور ویرانہ اور تھِہ(اجڑے ہوئے کھنڈرات) ہو جائیں گی۔ان کا کوئی نشان بھی ۱البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۳