ملفوظات (جلد 6) — Page 13
کو خدا تعالیٰ کی ہستی پر بخشتا ہے۔۱ لیکن جب انسان خدا تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے اور شعائر اللہ کی پروا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پروا ہو جاتا ہے اور اُس شخص اور ایسی قوم کو تباہ کر دیتا ہے چنانچہ چغتائی سلطنت نے جب دین سے غافل ہو کر بہائم کی سی سیرت اختیار کرلی تو پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ وہ سلطنت جو صدیوں سے چلی آتی تھی اس کا کچھ بھی باقی نہ رہا اور ایک مشاعر پر اس کا خاتمہ ہوگیا۔پس انسان کو ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔کھلی اور چھپی ہوئی بدکاریاں آخر انسان پر وہ گھڑی لے آتی ہیں جس کا اسے آسائش کے ایام میں وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔اس لیے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کا خوف ہر وقت دل پر رہے اور اس کی عظمت وجبروت سے ڈرتا رہے اور اعمالِ صالحہ کی کوشش کرتا رہے اور پھر دعا کے ساتھ اس کی توفیق مانگے۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔اس قدر تقریر اعلیٰ حضرت نے فرمائی تھی کہ مشیر اعلیٰ صاحب نے بڑے تکلّف سے ذیل کا سوال آپ سے پوچھا۔(ایڈیٹر) سوال۔آپ کی طرف سے نبی یا رسول ہونے کے کلمات شائع ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ میں عیسٰیؑ سے افضل ہوںاور اَور بھی تحقیر کے کلمات بعض اوقات ہوتے ہیں جن پر لوگ اعتراض کرتے ہیں۔حضرت اقدس۔ہماری طرف سے کچھ نہیں ہوتا۔میں ان باتوں کا خواہشمند نہیں تھا کہ کوئی میری تعریف کرے اور میں گوشہ نشینی کو ہمیشہ پسند کرتا رہا لیکن میں کیا کروں جب خدا تعالیٰ نے مجھے باہر نکالا۔یہ کلمات میری طرف سے نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ جب مجھے ان کلمات سے مخاطب کرتا ہے اور میں بالمواجہ اس کا کلام سنتا ہوں پھر میں کہاں جائوں لوگوں کے اعتراضوں اور نکتہ چینیوں کی پروا کروں یا اللہ تعالیٰ کے کلام پر ایمان لاؤں؟ میں دنیا اور اس کے اعتراضوں کی کوئی حقیقت اور اثر نہیں سمجھتا لیکن خدا تعالیٰ کو چھوڑنا اور اس کے کلام سے سرگردانی کرنا اس کو بہت ہی بُرا سمجھتا ہوں اور میں اس کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔اگر ساری دنیا میری مخالف ہوجائے اور ایک متنفّس بھی میرے ساتھ نہ ہو بلکہ کُل کائنات میری دشمن ہو پھر بھی میں اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے انکار نہیں کرسکتا۔دنیا اور