ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 196

اقرار ہی کافی نہیں جب تک عملی رنگ سے اپنے آپ کو رنگین نہ کیا جاوے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) یعنی کیا انسانوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم صرف اٰمَنَّا ہی کہہ کر چھٹکارا پالیں گے اور کیا وہ آزمائش میں نہ ڈالے جاویں گے۔سو اصل مطلب یہ ہے کہ یہ آزمائش اسی لیے ہے کہ خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا ایمان لانے والے نے دین کو ابھی دنیا پر مقدم کیا ہے یا نہیں۔آج کل اس زمانہ میں جب لوگ خدا کی راہ کو اپنے مصالح کے برخلاف پاتےہیں یا بعض جگہ حکّام سے ان کو کچھ خطرہ ہوتا ہے تو وہ خدا کی راہ سے انکار کر بیٹھتے ہیں ایسے لوگ بے ایمان ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ فی الواقع خدا ہی احکم الحاکمین ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا کی راہ بہت دشوار گذار ہے اور یہ بالکل سچ ہے کہ جب تک انسان خدا کی راہ میں اپنی کھال اپنے ہاتھ سے نہ اتار لے تب تک وہ خدا کی نگاہ میںمقبول نہیں ہوتا۔ہمارے نزدیک بھی ایک بےوفا نوکر کسی قدر و منزلت کے قابل نہیں۔جو نوکر صدق اور وفا نہیں دکھلاتا وہ کبھی قبولیت نہیں پاتا۔اسی طرح جنابِ الٰہی میں وہ شخص پرلے درجہ کا بے ادب ہے جو چند روزہ دنیوی منافع پر نگاہ رکھ کر خدا کو چھوڑتا ہے۔بیعت کی حقیقت بیعت سے مُراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔اس سے مُراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا کے ہاتھ بیچ دی۔یہ بالکل غلط ہے کہ خدا کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھاوے۔صادق کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتا۔نقصان اسی کا ہے جو کاذب ہے۔جو دنیا کے لیے بیعت کو اور عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے اس نے کیا ہے توڑ رہا ہے۔وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے۔وہ یاد رکھے کہ بوقتِ موت کوئی حاکم یا بادشاہ اسے نہ چھڑا سکے گا۔اس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اس سے دریافت کرے گا کہ تو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا؟ اس لیے ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ خدا جو مَلِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اَمر بھی یونہی حاصل نہیںہوتا ہے۔خدا ہی یہ اَمر دل میں بٹھائے تو بیٹھ سکتا ہے۔سو اس کے لیے دعا بکار ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدق سے قدم اٹھاتا ہے اس کو عظیم الشان طاقت اور خارقِ عادت قوت دی