ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 195

۲۰؍مئی ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور ) حضرت مسیح موعودؑ کی ایک تقریر کا خلاصہ۔یہ تقریر حضرت اقدسؑ نے بمقام گورداسپور ۲۰؍مئی ۱۹۰۴ء کو بعد نمازِ عصر کی تھی۔تحریک کا باعث چند احبابحیدر آباد دکن کے تھے جنہوں نے اس دن حضورؑ سے شرف بیعت حاصل کیا تھا۔نومبائعین کو نصائح آپ نے جو مجھ سے آج تعلق بیعت کیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ کچھ بطور نصیحت چند الفاظ تمہیں کہوں۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی زندگی کا کچھ اعتبار نہیں اگر کوئی شخص خدا پر ایمان رکھے اور پھر قرآن کریم پر غور کرے کہ خدا تعالیٰ نے کیا کچھ قرآن کریم میں فرمایا ہے تو وہ شخص دیوانہ وار دنیا کو چھوڑ خدا تعالیٰ کا ہوجاوے۔یہ بالکل سچ کہا گیا ہے کہ دنیا روزے چند عاقبت باخداوند۔اب خدا کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوشخص خدا کی طرف آنا چاہتا ہے اور فی الواقع اس کا دل ایسا نہیں کہ اس نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہو تو وہ خدا کے نزدیک قابلِ سزا ٹھہرتا ہے۔ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیںکہ اس کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے جب تک کافی حصّہ اپنا ان کی طلب میں خرچ نہ کر دیں وہ مقاصد حاصل ہونے ناممکن ہیں۔مثلاً اگر طبیب ایک دوائی اور اس کی ایک مقدار مقرر کر دے اور ایک بیمار وہ مقدار دوائی کی تو نہیں کھاتا بلکہ تھوڑا حصّہ اس دوائی کا استعمال کرتا ہے تو اس کو کیا فائدہ اس سے ہوگا؟ ایک شخص پیاسا ہے تو ممکن نہیںکہ ایک قطرہ پانی سے اس کی پیاس دور ہو سکے۔اسی طرح جو شخص بھوکا ہے وہ ایک لقمہ سے سیر نہیں ہوسکتا۔اسی طرح خدا تعالیٰ یا اس کے رسول پر زبانی ایمان لے آنا یا ایک ظاہراً رسم کے طور پر بیعت کر لینا بالکل بے سُود ہے۔جب تک انسان پوری طاقت سے خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگ جاوے۔نفس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ انسان پورے طور پر وہ حصّہ لے جو روحانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔صرف یہ خیال کہ میں مسلمان ہوں کافی نہیں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نے جو تعلق مجھ سے پیدا کیا ہے (خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالے) اس کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کی فکر میں ہر وقت لگے رہیں لیکن یاد رہے کہ صرف