ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 194

فرمایا کہ اگر کسی نے ایک بار میرے ساتھ عہد دوستی باندھا ہو تو مجھے اس قدر اس کی رعایت ہوتی ہے کہ اگر اس نے شراب پی ہوئی ہو تو بھی میں بِلا خوف لَوْمَۃَ لَائِمٍ اسے اٹھا لاؤں گا۔یعنی جب تک وہ خود ترک نہ کرے ہم خود نہ چھوڑیں گے۔پس اگر کوئی اپنے بھائیوںکو ترک کرے گا وہ سخت گنہگار ہوگا۔اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ مولانا موصوف کہتے ہیںکہ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ مومن، مومن کبھی نہیں ہوسکتا جب تک کہ کفر اس سے مایوس نہ ہو جاوے۔فتح مسیح کو ایک بار ہم نے رسالہ بھیجا۔اس پر اس نے لکیریں کھینچ کر واپس بھیج دیا اور لکھا کہ جس قدر دل آپ نے دکھایا ہے کسی اور نے نہیں دکھایا۔دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نے خود اقرار کر لیا کہ ہمارا دل دکھا۔پس ایسی مضبوطی ایمان میں پیدا کرو کہ کفر مایوس ہوجاوے کہ میرا قابو نہیں چلتا۔اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح: ۳۰)کے یہ معنے بھی ہیں۔قبولیت دعا کی شرط طاعون کا ذکر تھا۔کثرتِ اموات پر ذکر کرتے کرتے فرمایا۔دعائیں کرتے رہو۔بجز اس کے انسان مَکْرُ اللہ سے بچ نہیں سکتا۔مگر دعاؤں کی قبولیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے، تو دعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔خدا تعالیٰ کی شناخت کا وقت فرمایا۔اس وقت دنیا میں خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہو رہا ہے، اگرچہ لوگ برائے نام خدا تعالیٰ کے قائل تھے مگر اصل بات یہ ہے کہ ایک قسم کی دہریت پھیل رہی تھی اور خدا تعالیٰ سے بکلّی دور جا پڑے ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں۔خدا تعالیٰ کے اوامر و نواہی کو توڑنا اس سے بڑھ کر خباثت کیا ہوگی۔یہ تو اس کا مقابلہ ہے۔۱