ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 190

ایسے خوش کیوں ہیں؟ اس نے کہا کہ جس کی مرادیں حاصل ہو جائیں وہ خوش ہوتا ہے یا نہیں؟ سوار نے کہا کہ تیری ساری مرادیں کس طرح پوری ہوگئی ہیں؟ اس نےکہا کہ جب خواہشیں چھوڑ دیں تو مرادیں پوری ہوگئیں۔بات بالکل ٹھیک ہے۔انسان دو طرح ہی خوش ہو سکتا ہے یا تو حصولِ مُراد کے ساتھ یا ترکِ مُراد کے ساتھ اور ان میں سہل طریق ترکِ مُراد کا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سب کی زندگی تلخ ہے بجز اس کے جو اس دنیا کے علاقوں سے الگ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بادشاہوں نے بھی ان تلخیوں اور ناکامیوں سے عاجز آکر خود کشی کر لی ہے۔لذّات دنیا کی مثال دنیا کی لذّت خارش کی طرح ہے۔ابتداء ً لذّت آتی ہے۔پھر جب کھجلاتا رہتا ہے تو زخم ہو کر اس میں سے خون نکل آتا ہے یہاں تک کہ اس میں پیپ پڑ جاتی ہے اور وہ ناسور کی طرح بن جاتا ہے اور اس میں درد بھی پیدا ہوجاتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ یہ گھر بہت ہی ناپائیدار اور بے حقیقت ہے۔مجھے کئی بار خیال آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی مُردے کو اختیار دیدے کہ وہ پھر دنیا میں چلا جاوے تو وہ یقیناً توبہ کر اٹھے کہ میں اس دنیا سے باز آیا۔خدا تعالیٰ پرسچا ایمان ہو تو انسان ان مشکلاتِ دنیا سے نجات پا سکتا ہے کیونکہ وہ درد مندوں کی دعاؤں کو سن لیتا ہے مگر اس کے لیے یہ شرط ہے کہ دعائیں مانگنے سے انسان تھکے نہیں تو کامیاب ہوگا اور اگر تھک جاوے گا تو نری ناکامی نہیں بلکہ ساتھ بے ایمانی بھی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے بدظن ہو کر سلبِ ایمان کر بیٹھے گا۔مثلاً ایک شخص کو اگر کہا جاوے کہ تو اس زمین کو کھود خزانہ نکلے گا مگر وہ دوچار پانچ ہاتھ کھودنے کے بعد اسے چھوڑ دے اور دیکھے کہ خزانہ نہیں نکلا تو وہ اس نامُرادی اور ناکامی پر ہی نہ رہے گا بلکہ بتانے والے کو بھی گالیاں دے گا حالانکہ یہ اس کی اپنی کمزوری اور غلطی ہے جو اس نے پورے طور پر نہیں کھودا۔اسی طرح جب انسان دعا کرتا ہے اور تھک جاتا ہے تو اپنی نامُرادی کو اپنی سستی اور غفلت پر تو حمل نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ پر بد ظنّی کرتا ہے اور آخر بے ایمان ہوجاتا ہے ۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۲،۳ و البدر جلد ۳ نمبر ۲۰، ۲۱ مورخہ ۲۴؍مئی و یکم جون ۱۹۰۴ءصفحہ ۹،۱۰