ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 11

دو چار آدمی بھی معاذ اللہ ایسے طیار نہیں کرسکے جو اعلیٰ درجہ کے باخدا انسان ہوں اور جنہوں نے اعلیٰ درجہ کی روحانی تبدیلی کرلی ہو تو پھر آپ کی قوتِ قدسی کا کیا ثبوت رہ جاوے گا۔پھر اگر دوسرے لوگوں کے اعتراضوں کو دیکھا جاوے جو وہ ان پر کرتے ہیں تو پھر تو معاذ اللہ ایک بھی راست باز آپ کی تعلیم سے ثابت نہیں ہوتا۔بیاضیہ(خوارج)حضرت علیؓ کو معاذ اللہ مُرتد کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ابو جہل کی لڑکی سے نکاح کرلیا حالانکہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع بھی فرمایا تھا۔اس اعتراض کا جواب شیعہ کیا دے سکتے ہیں۔اسی طرح پر بیاضیہ کے اعتراض ایسے ہیں کہ ان کو سُن کر بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ادھر شیعہ ہیں کہ وہ شیخین کی ذات پاک پر شوخی کے ساتھ اعتراضات جمع کرتے ہیں لیکن اگر یہ دونوں فریق خدا ترسی اور روحانیت سے کام لیتے تو ایسا نہ کرتے۔وہ دیکھتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک جسم کی طرح ہیں اورصحابہ کرامؓ آپ کے اعضا ہیں۔جب اعضا کاٹ دیئے جاویں تو پھر باقی کیا رہ گیا۔جسم ناقص رہ جاتا ہے اور خوبصورتی بھی باقی نہیں رہتی۔ان باتوں کو سُن سُن کر بدن پر لرزہ پڑتا ہے اور مسلمانوں کی حالت پر افسوس آتا ہے کہ وہ اپنی اس قسم کی کارروائیوں سے بھی دشمنوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقع دیتے ہیں اور ان کی زبانیں کھلتی ہیں بلکہ وہ اپنے ہاتھ سے اسلام کی جڑ کاٹ رہے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس قسم کی اندرونی کمزوریوں اور خرابیوں نے یہ ضرورت پیدا کی کہ خدا تعالیٰ اپنے دین کی تائید اور نصرت کے لیے ایک سلسلہ قائم کر دیتا جو اِن غلط فہمیوں کو دلوں سے دور کر دیتا۔یہی غرض ہے میرے آنے کی۔جو سعید الفطرت ہیں وہ اس حقیقت کو سمجھ کر اس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔مَیں پھر کہتا ہوں کہ یہ بات بڑی ہی قابلِ غور ہے کہ یہ لوگ جو مسلمان کہلا کر صحابہؓ کی ذات پر حملہ کرتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر حملہ کرتے ہیں اور قرآن شریف کی عزّت پر حملہ کرتے ہیں غیر قوموں خصوصاً عیسائیوں کے بالمقابل ہمارا یہی زبردست دعویٰ ہے کہ آپ کی پاک تعلیم اور صحبت نے ایسے اعلیٰ درجہ کی روحانیت پیدا کی اور بالمقابل مسیحؑ کے ۱۲ حواری بھی درست نہ رہ