ملفوظات (جلد 6) — Page 168
خدا ترس ان کو شناخت کر لیتا ہے اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن جو فراست نہیںرکھتا اور خدا کے خوف کو مدّ ِنظر رکھ کر اس پر غور نہیں کرتا وہ محروم رہ جاتا ہے کیونکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ دنیا دنیا ہی نہ رہے اور ایمان کی وہ کیفیت جو ایمان کے اندر موجود ہے نہ رہے ایسا خدا تعالیٰ کبھی نہیں کرتا اگر ایسا ہوتاتو یہودیوں کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ حضرت مسیح کا انکار کرتے۔موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیوںہوتا اور پھر سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر تکالیف کیوں برداشت کرنی پڑتیں۔خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہی نہیں کہ وہ ایسے نشان ظاہر کرے جو ایمان بالغیب ہی اُٹھ جاوے۔ایک جاہل وحشی سنّت اللہ سے ناواقف تو اس چیز کو معجزہ اور نشان کہتا ہے جو ایمان بالغیب کی مدّ سے نکل جاوے مگر خدا تعالیٰ ایسا کبھی نہیں کرتا۔ہماری جماعت کے لیے اللہ تعالیٰ نے کمی نہیں کی کوئی شخص کسی کے سامنے کبھی شرمند ہ نہیں ہوسکتا جس قدر لوگ اس سلسلہ میں داخل ہیں ان میں سے ایک بھی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔براہین احمدیہ کو پڑھو اور اس پر غور کرو اس زمانہ کی ساری خبریں اس میں موجود ہیں۔دوستوں کے متعلق بھی ہیں اور دشمنوں کے متعلق بھی۔اب کیا یہ انسانی طاقت کے اندر ہے کہ تیس برس پہلے جب ایک سلسلہ کا نام ونشان بھی نہیں اور خوداپنی زندگی کا بھی پتا نہیں ہوسکتا کہ میں اس قدر عرصہ تک رہوں گا یا نہیں ایسی عظیم الشّان خبریں دے اور پھر وہ پوری ہو جائیں نہ ایک نہ دو بلکہ ساری کی ساری۔براہین احمدیہ احمدی لوگوں کے گھروں میں بھی ہے عیسائیوں، آریوں اور گورنمنٹ تک کے پاس موجود ہے اور اگر خدا کا خوف اور سچ کی تلاش ہے تو میں کہتا ہوں کہ براہین کے نشانات پر ہی فیصلہ کرلو۔دیکھو! اس وقت جب کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور کوئی یہاں آتا بھی نہیں تھا ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ تھا اس جماعت کی جو یہاں موجود ہے خبر دی اگر یہ پیشگوئی خیالی اور فرضی تھی تو پھر آج یہاں اتنی بڑی جماعت کیوں ہے اور جس شخص کو قادیان سے باہر ایک بھی نہیں جانتا تھا اور جس کے متعلق براہین میں کہا گیا تھا فَـحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ آج کیا وجہ ہے کہ وہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ عرب، شام، مصر سے نکل کر یورپ اور امر یکہ تک دنیا اس کو شناخت کرتی ہے۔اگر یہ خدا کا کلام نہیں تھا