ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 167

رؤیت کا انکار کرناکتنا بڑا ظلم ہے۔ہزاروں ہزار نشان خدا تعالیٰ نے اپنے بندہ کی تصدیق کے لیے ظاہر کئے اور ان کے دیکھنے والے موجود ہیں۔مگر افسوس کی بات ہے کہ ان کو ردّکر دیا جاتا ہے اور جدید نشانوں کی خواہش کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ اور نشانات دکھلاوے لیکن سنّت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ایسے اقتراح کرنے والے اور اپنے ایمان کو مشروط کرنے والے ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔پچھلے نشانوں کو ترک کرکے آئندہ کے لیے سوال کرنا آیات اللہ کی بے حر متی اور خدا تعالیٰ کے حضور سُوءِ ادبی ہے۔اللہ تعالیٰ تو فر ماتا ہے کہ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ (ابراھیم:۸)اگرتم میری نعمت کاشکر کروگے تو میں اُسے بڑھاؤں گا اور پھر فرمایا وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ(ابراھیم:۸) اور اگر انکار اور کفر کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔اب بتا ؤ کہ ان آیاتِ الٰہی کی تکذیب اور ان کو چھوڑ کر جدید کی طلب اور اقتراح یہ عذابِ الٰہی کو مانگناہے یا کیا؟ سلسلہ کی تائید میں عظیم نشانات کا ظہور دیکھو! میں سچ کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی آیات کی بے ادبی مت کرو اور انہیں حقیر نہ سمجھو کہ یہ محرومی کے نشان ہیں اور خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔ابھی کل کی بات ہے کہ لیکھرام خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشا ن نشان کے موافق مارا گیا۔کروڑوں آدمی اس پیشگوئی کے گواہ ہیں خود لیکھرام نے اسے شہرت دی وہ جہاں جاتا اسے بیان کرتا۔یہ نشان اسلام کی سچائی کے لیے اس نے خود مانگا تھا اور اس کو سچے اور جھوٹے مذہب کے لیے بطور معیار قائم کیا تھا آخر وہ خود اسلام کی سچائی اور میری سچائی پر اپنے خون سے شہادت دینے والاٹھہرا۔اس نشان کو جھٹلا نا اور اس کی پروا نہ کرنا یہ کس قدر بےانصافی اورظلم ہے پھر ایسے کھلے کھلے نشان کا انکار کرنا تو خود لیکھرام بننا ہے اور کیا؟ مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ جس حال میں خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا ہے کہ اس نے ہر قوم کے متعلق نشانا ت دکھائے جلالی اور جمالی ہر قسم کے نشان دئیے گئے پھر ان کو ردّی کی طرح پھینک دینایہ تو بڑی ہی بدبختی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بننا ہے۔جو آیا ت اللہ کی پروا نہیں کرتا وہ یادرکھے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نشان ظاہر ہوتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک عقلمند