ملفوظات (جلد 6) — Page 166
میں بڑی صفائی سے کہہ رہا ہوں کہ تم نے جو اسلام کو قبول کیا ہے کون سا معجزہ اس کا دیکھا تھا۔جس قدر معجزات اسلام کے تم بیان کرو گے وہ سماعی ہوں گے تمہارے چشم دید نہیں لیکن یہاں تو وہ باتیں موجود ہیں جن کے دیکھنے والے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں انسان ہیں۔جو ابھی زندہ موجود ہیں۔دو گواہوںسے ایک شخص پھانسی پا سکتا ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ یہاں لاکھوں انسان موجود ہیں جو ان نشانوں کے گواہ ہیں اور ان کی شہادت کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے اس سے بڑھ کر ظلم اور حق کا خون کیا ہوگا۔اگر خدا تر سی اور حق پسندی غرض ہے اور جس مطلب کے لیے ہندو مذہب کو چھوڑ کر۱ اسلام قبول کیاہے توایسے اقتراحوں سے کیا حا صل؟یہ سعادتمندی کی راہ نہیں۔یہ تو ہلاکت کی راہ ہے کیونکہ جو اس قدر نشانات کے ہوتے ہوئے بھی پھر کہتا ہے کہ مجھے نشان دکھاؤ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کافر ہی مَرے گا۔ہماری موت کے بعد اگر کوئی کہتا تو البتہ اسے معذور سمجھ لیتے کہ اس کے سامنے جو نشانات ہیں وہ منقولی ہیں اور ان پر صدیاں گزر گئی ہیں مگر اس وقت تو ہم زندہ موجود ہیں۔اور ان نشانات کو دیکھنے والے بھی زندہ موجود ہیں پھر کہا جاتا ہے کہ نشان دکھاؤ۔ایسی ہی حالت ہو گی جب حضرت مسیح کو کہنا پڑا ہوگا کہ اس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں۔حقیقت میں انسان جب دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا اور سنتا ہوا نہیں سنتا تو اس کی حالت بہت خطرناک ہوتی ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ جب تم اس وقت اس قدرآیات اللہ کے ہوتے ہوئے بھی انکار کرتے ہو اور جدید نشان کے طلب گار ہو تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کے ماننے کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟ اسے ذرا بیان تو کرنا چاہیے یا اگر ان کو صرف حُسنِ ظنّ کے طور پر سُن کر مان لیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس وقت ان تازہ آیات کا انکار کیا جاتا ہے اور ان میں شک کیا جاتا ہے۔کیوں ان کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ہاں بے شک یہ دیکھ لو کہ آیا وہ بشری طاقتوں کے اندر ہیں یا ان سے بڑ ھ کر ہیں اور منہاجِ نبوت پر ہیں یا نہیں۔۲ 1سائل نو مسلم تھا۔(مرتّب) ۲الحکم جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۲،۳