ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 165

لیکن آسمان سے کسی مدد کے نزول کے لیے ان کے دل نہیں پگھلتے۔وہ انتظار کی بجائے خدا تعالیٰ کے قائم کر دہ سلسلہ پر ہنسی کرتے اور ٹھٹھے مارتے ہیں اور اس کو تباہ کرنے کے منصوبے سوچتے ہیں لیکن وہ یاد رکھیں کہ ان منصوبوں سے خدا تعالیٰ کا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے؟خدا تعالیٰ نے خود جس کام کا ارادہ فرمایا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ان کی اس منصوبہ بازی اور خطرناک مخالفت کو دیکھ کر مجھے بھی ان پر رحم آتا ہے کہ ان کی حالت ایسی نازک ہو گئی ہے کہ یہ اپنی بیماری اور کمزوری کو بھی محسوس نہیں کرسکتے ورنہ بات کیا تھی؟خدا تعالیٰ نے ہر طرح کے سامان ان کے سمجھنے اور سوچنے کے لیے مہیا کر دئیے تھے۔وقت پُکار پُکار کر مصلح کی ضرورت بتاتا ہے اور پھر جس قدر نشان اور آیات صحائف انبیاء اور قرآن شریف اور احادیث کی رو سے اس وقت کے لیے مقرر تھے وہ ظاہر ہو چکے۔نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ برابر تائید کرتے ہیں، عقل شہادت دیتی ہے اور آسمانی نشان بجائے خود مؤیّد ہیں مگر یہ عجیب لوگ ہیں کہ نشان دیکھتے ہیں اور منہ پھیر کر کہہ دیتے ہیں کہ کوئی نشان دکھاؤ۔میں ایسے لوگوں کو کیا کہوں بجز اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کے فعل کو حقارت اور تعجب کی نظر سے دیکھتے ہو جو نشان پہلے اُس نے ظاہر کئے ہیں کیا تم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس کی طرف سے نہیں ہیں؟ کیا وہ نشان انسانی طاقت کے اندر ہیں اور کوئی ان کا مقابلہ کرسکتا ہے کیا منہاجِ نبوت پر وہ نشان ایک شخص کی تسلّی کے لیے کافی نہیں ہیں جو نئے نشان مانگے جاتے ہیں خدا سے ڈرو اور اس سے مقابلہ نہ کرو۔یہ تو ظلم صریح ہے کہ اس کی آیات کی ایسی بےقدری کرو کہ ان کو تسلیم ہی نہ کرو۔پہلے یہ فیصلہ کرو کہ آیا خدا نے کوئی نشان دکھایا ہے یا نہیں اگر دکھایا ہے اسی طرح پر جو وہ انبیاء کے وقتوں میں دکھاتا آیا ہے تو سعادت مند بن کر اسے قبول کرو اور اس نعمت کی قدر کرو۔اگر کوئی نشان نہیں دکھایا گیا ہے تو مانگو بےشک مانگو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ قادر خدا نشان پر نشان دکھائے گا لیکن میں جانتا ہوں کہ اس نے ہزاروں نشان ظاہر کئے مگر ان لوگوں نے ان کو استہزا کی نظر سے دیکھا اور کافرِ نعمت ہو کر ٹال دیا اور پھر کہتے ہیں کہ اور دکھاؤ یہ اقتراح مناسب نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کامل طور پر اتمامِ حجّت کرتا ہے اور اب طاعون کے ذریعہ کر رہا ہے کیونکہ جن لوگوں نے رحمت کے نشانوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا وہ اب غضب کے نشانوں کو دیکھ لیں۔