ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 164

ہوں کہ جس بات کے لیے اُس نے میرے دل میں یہ جوش اور اضطراب ڈالا ہے وہ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور زیادہ دیر تک دنیا کو تا ریکی میں نہیں رہنے دے گا۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان نہیں لاتے یا نہیں لائے ہیں ان کے نزدیک بے شک یہ انہونی باتیں ہیں مگر جو شخص اس کی عجیب در عجیب قدرتوں اور طاقتوں کے تماشے دیکھ چکا ہو اور جس کی اپنی ذات پر ہزار ہا نشان صادر ہو چکے ہوں ہاں جس نے خود اس کی آوازیں سنی ہوں وہ کیوںکر کہہ سکتا ہے کہ یہ مشکل ہے یایہ انہونی ہے؟ کبھی نہیں۔وہ پکار کر انکار کرنے والے کو کہتا ہے اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(البقرۃ:۱۰۷) جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ یہ مشکل ہے کہ مصنوعی خدا پر موت آوے انہوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا نہیں وہ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ (الانعام:۹۲) کے پورے مصداق ہیں۔دنیا میں اگر کوئی ابتلا پیدا ہوتا ہے تو اس کے مصالحہ اور اسباب کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔اس وقت دنیا بہت تاریکی میں پھنسی ہوئی ہے اور اس کو مُردہ پرستی نے ہلاک کر ڈالا ہے لیکن اب خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ وہ دنیا کو اس ہلاکت سے نجات دے اور اس تا ریکی سے اس کو روشنی میں لاوے۔یہ کام بہتوں کی نظروں میں عجیب ہے مگر جو یقین رکھتے ہیں کہ خدا قادر ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔وہ خدا جس نے ایک کُن کے کہنے سے سب کچھ کر دیا کیا قادر نہیں کہ اپنے قدیم ارادہ کے موافق ایسے اسباب پیدا کرے جو لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کو دنیا تسلیم کر لے۔سلسلہ کی مخالفت اور نشان نمائی کے مطالبات مجھے ان لوگوں پر سخت تعجب اور افسوس آتا ہے جو عالم کہلاتے ہیں۔مولوی اور صوفی بنتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کی کیا حالت ہو رہی ہے۔ہر طرف سے اس پر حملے ہو رہے ہیں اور اسلام ایک سخت ضعف اور کمزوری کی حالت میں ہے اس وقت چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو مدّ ِنظر رکھ کر اس وقت وہ خود منتظر ہوتے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت اسلام کی حمایت اور نصرت کے لیے کیا سامان کرتا ہے اور خدا کی نصرت کا استقبال کرتے مگر افسوس ہے کہ وہ عیسائیوں کے حملوں کو دیکھتے ہیں جو وہ اسلام پر کرتے ہیں۔مسلمانوں کی عام حالت کو دیکھتے ہیں