ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 163

میری فطرت میں کسی اَور اَمر کے لیے کوئی مَیلان ہی نہیں رکھا گیا اور نہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اور کسی چیز کی حاجت میرے لیے رہنے دی ہے اس لیے میری بڑی دعا اور آرزو یہی ہے کہ میں اس باطل کا استیصال دیکھ لوں جو خدا تعالیٰ کی مسند پر ایک عاجز انسان کو بٹھایا جاتا ہے اور حق ظاہر ہو جاوے۔میں اس جوش اور درد کو جو مجھے اس حق کے اظہار کے لیے دیا گیا ہے بیان کرنے کے واسطے الفاظ نہیں پاتا۔اگر یہ بھی مان لیا جاوے کہ کوئی اور مسیح بھی آسمان سے اُترنے والا ہے تو بھی میں اپنے دل پر نظر کرکے کہہ سکتا ہوں کہ جو گدازش اور جوش مجھے اس مذہب کے لیے دیا گیا ہے کبھی کسی کو نہیں دیا گیا۔مجھے بشارت دی گئی ہے کہ یہ عظیم الشان بوجھ جو میرے دل پر ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہلکا کر دے گا اور ایک حیّ وقیوم خدا کی پرستش ہونے لگے گی۔وہ خدا جو ہماری ہزاروں دعائیں قبول کرتا ہے کبھی ہوسکتا ہے کہ وہ دعائیں جو اس کے جلال اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بز رگی کے اظہار کے لیے ہم کرتے ہیں قبول نہ کرے؟ نہیں وہ قبول کرتا ہے اور کرے گا۔ہاں یہ سچ ہے کہ جس قدر عظیم الشان مرحلہ اور مقصد ہو اسی قدر وہ دیر سے حا صل ہوتا ہے۔چونکہ یہ عظیم الشان کام ہے اس لیے اس کے حسبِ منشا ہونے میں بھی ایک وقت اور مہلت مطلوب ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ وقت قریب آرہاہے اور اس کی خوشبو دار ہوا ئیں آرہی ہیں اور مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری ان دعاؤں کو جو میں ایک عرصہ دراز سے کر رہا ہوں قبول کر لیا ہے۔جس قدر دل بےساختہ ان ہموم وغموم میں مبتلا ہوں اسی قدر اضطراب پیدا ہو تو یاد رکھنا چاہیے کہ قبولیت کی طیاری آسمان پر ہوتی ہے کیونکہ جب تک قبولیت کی طیاری آسمان پر نہ ہو وہ خشو ع خضوع اور درد و جوش جو حقیقی اضطراب کو پیدا کرتا ہے پیدا نہیں ہوسکتا۔لیکن اس وقت جو میں اس اضطراب اور کرب و قلق کو دل میں پاتا ہوں مجھے کامل یقین ہوتا ہے کہ مصنوعی خدا کے خاتمہ کا وقت آگیا ہے۔اس وقت ان باتوں پر ایمان لانا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے اورکوئی نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیوںکر ہوسکتا ہے مگر ایک وقت آتا ہے کہ لوگ ان باتوں کو دیکھ لیں گے۔میں اپنے قادر خدا پر پورا یقین رکھتا