ملفوظات (جلد 6) — Page 162
میرے ہاتھ پر مقدر ہے کہ میں دنیا کو اس عقیدہ سے رہائی دوں۔پس ہمارا فیصلہ کرنے والا یہی اَمر ہوگا۔یہ باتیں لوگوں کی نظر میں عجیب ہیں مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ میرا خدا قادر ہے۔میں اصل میں دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ مامور کے آنے کا کیا مدعا ہوتا ہے اور میں اس اَمر کو بھی خوب جانتا ہوں کہ اس کا دعویٰ بناوٹ اور تکلّف سے نہیں ہوتا۔وہ جو کچھ کہتا ہے دنیا اپنی جگہ سمجھتی ہے کہ شائد یہ اپنی شہرت کے لیے کرتا اور کہتا ہے مگر میں جانتا ہوں کہ وہ دنیا کی تعریف اور شہرت سے بالکل مستغنی ہوتا ہے وہ مجبور کیا جاتا ہے کہ باہر دنیا میں نکلے ورنہ اگر یہ سوزش اور گدازش جو اسے مامور کرکے خلق اللہ کی بہتری اوربہبودی کی لگا دی جاتی اسے نہ لگائی جاتی تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تنہائی میں اپنی زندگی بسر کرے اور کوئی اس کو نہ جانے لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی ایسے انسان کو منتخب کرتا ہے جو اس کے منشا کے موافق کام کرسکتا ہے تو وہ اسے اس حجرہ سے باہر لاتا ہے اور پھر اس کو عظیم الشان استقلال اور ثباتِ قدم عنایت کرتا ہے۔دنیا اور اس کی مخالفتوں کی اسے کوئی پروا نہیں ہوتی۔وہ ہر ایک قسم کی تکالیف اور مصائب میں بھی قدم آگے بڑھاتا اور اپنے مقصد کو ہاتھ سے نہیں دیتا۔میں اپنے دل کو دیکھتا ہوں کہ با لطبع وہ شہرت اور باہر آنے سے متنفّر تھا لیکن میں کیا کروں خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی خدمت کے لیے چُن لیا اور باہر نکال دیا۔اب خواہ کوئی کچھ بھی کہے میں اس کی پروا نہیں کرسکتا اور اگر میں کسی کی تعریف یا مذمّت کی پروا کروں تو اس کے یہی معنے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کو بھی اپنے پہلو میںرکھتا ہوں۔میں دیکھتا ہوں کہ جس کام کے لیے اس نے مقرر کیا ہے اس کے حسبِ حال جوش اور سوزش بھی میرے سینہ میں پیدا کر دی ہے میں بیان نہیں کرسکتا کہ اس ظلمِ صریح کو دیکھ کر جو ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے میرے دل میں کس قدر درد اور جوش پیدا ہوتا ہے۔ہزاروں ہزار انسان ہیں جو اپنے اہل وعیال اور دوسری حاجتوں کے لیے دعائیں کرتے اور تڑپتے ہیں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ میرے لیے اگر کوئی غم ہے تو یہی ہے کہ نوعِ انسان کو اس ظلمِ صریح سے بچائوں کہ وہ ایک عا جز انسان کو خدا بنانے میں مبتلا ہو رہی ہے اور اس سچے اور حقیقی خدا کے سامنے ان کو پہنچا ئوں جو قادر اور مقتدر خدا ہے۔