ملفوظات (جلد 6) — Page 156
کرتا ان کی خوشامد کرتا اور جائز و ناجائز وسائل کے استعمال سے بھی نہیں چوکتا۔جب ایک تھوڑی سی متاع کے لیے وہ اس قدر جدوجہد اور کوشش کرتا ہے پھر اسے شرم کرنی چاہیے کہ دین کے لیے اس کا دسواں حصّہ بھی سعی نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ اسرار دین اس پر کھل جاویں اور وہ دَم زَدن میں ولی بن جاوے۔چند منٹ کے لیے ایک شخص ہماری مجلس میں آکر بیٹھتا ہے اور باہر نکل کر فتویٰ دیتا ہے کہ میں نے سب کچھ سمجھ لیا ہے یہ سب کچھ دکا نداری ہے ہم ایسے فتووں اور ایسی راؤں کی کیا پروا کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور الہام کے مقابلہ میں جو روشن نشانوں اور دلائل کے ساتھ ہو رہا ہے ایسی بےسروپا راؤں اور فتووں کی کیا وقعت ہوسکتی ہے مگر ایسی رائے دینے والوں کو مَرنے کے بعد پتا لگ جاوے گا کہ ان کے فتووں کی کیا حقیقت ہے؟ اس وقت سارے پردے اور حجاب اٹھ جاویں گے اور حقیقت کھل جاوے گی۔میں دنیا کی حالت پر سخت تعجب اور افسوس کرتاہوں کہ اگر کسی کو کہہ دیا جاوے کہ تجھے جذام کا اندیشہ ہے تو وہ طبیب تلاش کرتا ہے اور نسخے پر نسخہ استعمال کرتا چلا جاتا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کی بیماری کے لیے تو یہ جدوجہد کی جاتی ہے پر اس کے مقابلہ میں دین کے لیے کوئی فکر اور کوشش نہیں کی جاتی۔جو ئندہ یا بندہ ایک عام مثل ہے مگر اس کے لیے یہ بھی تو ضروری ہے کہ جو سچی تلاش اور طلب کا حق ہے وہ ادا کرے۔یہ تو نہیں کہ ایک شخص آتا ہے اور پو چھتا ہے کہ مجھے کوئی نشان دکھادو میں شام کو واپس جانا چاہتا ہوں ایسی جلدبازی اور اقتراح خدا کو پسند نہیں ہے۔دیکھو زمیندار کس قدر محنت کرتا ہے راتوں کو اٹھ اٹھ کر سخت سے سخت زمین میں ہل چلا تا ہے پھر تخم ریزی کرتا ہے آبپاشی کرتا ہے اور حفاظت کرتا ہے تب جا کر کہیں پھل اٹھاتا ہے۔یہ کوشش اور محنت دنیا کے لیے تو ہے جو آج ہے کل نہ ہو گی مگر دین کے لیے کچھ بھی نہیں۔چونکہ نفس میں خباثت ہوتی ہے اور تلاشِ حق مطلوب نہیں ہوتی اس لیے جلد فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں نے سمجھ لیا ہے۔یہ بے انصافی اور ظلم نہیں تو کیا ہے؟ مگر یہ سچ ہے وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ(البقرۃ:۵۸) ایک شخص جو کنواں کھودنے لگا ہے وہ اگر دوچار ہاتھ کھود کر شکایت کرے کہ پانی نہیں نکلا تو کیا اس کو احمق نہ کہا جاوے گا اور ملامت نہ ہو گی کہ ابھی تو اس حدتک پہنچا تو ہے ہی نہیں جہاں پانی نکلتا ہے ابھی سے