ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 155

ہزاروں لاکھوں کیڑے مَر جاتے ہیں یہ بھی مَر جاتا ہے اور اس کا کوئی خیال نہیں ہوتا لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتا ہے اور دعاؤں سے کام لیتا ہے اور تھکتا نہیں تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اس پر اپنی راہ کے دروازے کھول دیتا ہے یہی اصول یہاں بھی ہے کیونکہ مجھے اس خدا نے مامور کرکے بھیجا ہے پس اگر کوئی یہاں آتا ہے اس لیے کہ وہ شعبدہ بازی دیکھے اور پھونک مار کر ولی بنا دیا جاوے تو ہم صاف کہتے ہیں کہ ہم پھونک مار کرولی نہیں بنا تے۔جو شخص جلد بازی سے کام لیتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے خدا اس کی پروا نہیں کرتا تو مجھے اس کی کیا پروا۔اتنا ہی نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ خدا غفور الرحیم ہے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ماننا چاہیے کہ وہ غنی بھی ہے۔اگر ساری دنیا اتقیٰ قلب لے کر آوے تو اس کی الوہیت کی شان ایک ذرّہ بھر بھی بڑھ نہ جاوے گی اور اگراتقیٰ نہ ہو تو اس سے کچھ کم نہ ہوگا۔اس لیے طالب ِصادق کا پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی بے نیاز ہے اس کو حاجت اس اَمر کی نہیں کہ میں اس کی طرف رجوع کروں بلکہ مجھے حاجت اور ضرورت ہے کہ اس کی طرف رجوع کروں اور اس کے آستا نہ الو ہیت پر گروں جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ خدا کو میری حاجت نہیں مجھے خدا کی حاجت ہے تو اس میں ایک طلبِ صادق کا جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ خدا کی طرف رجوع کرنے لگتا ہے۔پس اگر کوئی میرے پاس آتا ہے تواسے بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میرا کام تو صرف پہنچا دینا ہے منوا دینا میرا کام نہیں۔اگر کوئی اپنی بھلائی اور بہتری چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے ایک دن مَرنا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے تواس کا فرض ہونا چاہیے کہ صبر اور صدق کے ساتھ اس راہ کو تلاش کرے اور گھبرائے اور تھکے نہیں لیکن جب کوئی حد سے زیادہ شرارت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں پر ہنسی کرتا اور انہیں ٹھٹھے میں اڑانا چاہتا ہے تواس کا علاج اس نے اَور رکھا ہوا ہے اب بھی یہی ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے۔کتوں اور کیڑوں کی طرح لوگ مَر رہے ہیں اور مَریں گے۔دیکھو دس روپیہ کا مقدمہ بھی ہو تو انسان اپنی عقل پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ دوسروں سے مشورہ لیتا ہے اور ان پر بھروسہ کرتا ہے پھر وکیل تلاش کرتا ہے وکیل بھی اعلیٰ درجہ کا پھر حکّام رس لوگوں کی تلاش