ملفوظات (جلد 6) — Page 146
۲۰؍اپریل ۱۹۰۴ء شام کے وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلوس فرمایا تو الہامات ذیل بیان کئے۔الہامات۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْـزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْـزِلَۃِ عَرْشِیْ۔عرش عرش پر آپ نے فرمایا کہ یہ لفظ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلیّات جمالی و جلالی کا اتم مظہر عرش ہے اور مسیح موعود اتم مظہر صفاتِ جمالیہ کا ہے جو کہ اس وقت ظاہر ہو رہی ہیں۔اور اس لیے کل انبیاء کے ناموں سے مجھے خطاب کیا گیا ہے تاکہ ان کے کل صفات کا مظہر تام میں ہوجاؤں۔خدا تعالیٰ کی صفات محیی و ممیت برابر کام میں زور سے لگے ہوئے ہیں ایک طرف تو لوگ زندہ ہو رہے ہیں اور ایک طرف مَر رہے ہیں۔پس چونکہ ان ایام میں خدا کی صفات اپنی پوری تجلّی سے کام کر رہی ہیں اس مناسبت کے لحاظ سے عرش کہا گیا ہے۔عرش کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ عرش ایسی شَے ہے کہ نہ وہ مخلوق ہے اور نہ غیر مخلوق بلکہ خدا تعالیٰ کی تجلّیّات کا اعلیٰ مقام جو دونوں جہانوں میں ہو سکتا ہے وہ عرش کا مقام ہے۔جو مخلوق کہتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں اور جو غیر مخلوق قرار دیتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں جو اس کو بذاتِ خود تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمارا یہ مذہب نہیں ہے کیونکہ اگر مخلوق کہا جاوے تو پھر محدود اورمجسّم ہوگا۔اگر غیر مخلوق ہو تو خدا کی خالقیت سے باہر رہتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ہے پس جیسے میرے الہامات ہیں اُخْطِیْ وَ اَصُوْمُ۱ اور اُفْطِرُ وَاَصُوْمُ وغیرہ کلامِ الٰہی بطور استعارہ کے آئے ہیں ویسے ہی یہ بھی ایک استعارہ ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ کلامِ الٰہی میں استعارات ہوا کرتے ہیں پھر کیوں نہ کہا جاوے کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی کنہ کو حوالہ بخدا کرتے ہیں۔میرا یہی عقیدہ ہے کہ عرش اصل میں مخلوق اور غیر مخلوق کی بحث سے باہر ہے اور اعلیٰ درجہ کی ایک تجلّی ہے۔۱یہ اُصِیْبُ ہے غلطی سے اَصُوْمُ لکھا گیا ہے۔(مرتّب)