ملفوظات (جلد 6) — Page 134
پرندوں کااسے خالق مانا جاتا ہے بات یہ ہے کہ عقیدے اچھے ہوتے ہیں تو انسان سے اعمال بھی اچھے صادر ہوتے ہیں۔دیکھو ہندوؤں نے ۳۳ کروڑ دیوتا بنائے تو آخر نیوگ وغیرہ جیسے مسائل کو بھی ماننے لگ گئے اور ذرّہ ذرّہ کو خدا مان لیا اس نیوگ اور حرامکا ری کی کثرت کا باعث یہی اعتقاد کا نقص ہے جو انسان سچا اور بے نقص عقیدہ اختیار کرتا ہے اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا تو اس سے اعمال خود بخود ہی اچھے صادر ہوتے ہیں اور یہی باعث ہے کہ جب مسلمانوں نے سچے عقائد چھوڑ دئیے تو آخر دجّال وغیرہ کو خدا ماننے لگ گئے کیونکہ دجّال میں تمام صفات خدائی کے تسلیم کرتے ہیں۔پس جب اس میں تمام صفات خدائی کے مانتے ہو تو جو اسے خدا کہے اس کا اس میں کیا قصور ہوا خود ہی تو تم خدائی کا چارج دجال کو دیتے ہو۔پروردگار چاہتا ہے کہ جیسے عقائد درست ہوں ویسے ہی اعمالِ صالحہ بھی درست ہوں اور ان میں کسی قسم کا فساد نہ رہے اس لیے صراطِ مستقیم پر ہونا ضروری ہے خدا نے بار بار مجھے کہا ہے کہ اَلْـخَیْـرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ اس کی تعلیم ہے کہ خدا وحدہٗ لا شریک ہے اور جو قرآن نے کہا ہے وہ بالکل سچ ہے۔جماعت اور امام کی ضرورت اور ایک ضروری بات یہ ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرو۔ترقی انسان خود نہیں کرسکتا تھا جب تک ایک جماعت اور ایک اس کا امام نہ ہو اگر انسان میں یہ قوت ہوتی کہ وہ خود بخود ترقی کرسکتا تو پھر انبیاء کی ضرورت نہ تھی تقویٰ کے لیے ایک ایسے انسان کے پیدا ہونے کی ضرورت ہے جو صاحبِ کشش ہو اور بذریعہ دعا کے وہ نفسوں کو پاک کرے۔دیکھو اس قدر حکماء گذرے ہیں کیا کسی نے صالحین کی جماعت بھی بنائی، ہرگز نہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب ِکشش نہ تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے بنادی۔بات یہ ہے کہ جسے خدا تعالیٰ بھیجتا ہے اس کے اندر ایک تریاقی مادہ رکھاہوا ہوتا ہے پس جو شخص محبت اور اطاعت میں اس کے ساتھ ترقی کرتا ہے تواس کے تریاقی مادہ کی وجہ سے اس کے گناہ کی زہر دور ہوتی ہے اور فیض کے ترشحات اس پر بھی گرنے لگتے ہیں اس کی نماز معمولی نماز نہیں ہوتی یادرکھو کہ اگر موجودہ ٹکروں والی نماز ہزار برس بھی پڑھی جاوے تو ہرگز فائدہ نہ ہوگا۔نماز ایسی شَے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ