ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 124

ادا کرتی ہے اور وہ یہ ہے جو منگے سو مَر رہے مَرے سومنگن جا یعنی جو مانگنا چاہتا ہے اس کو ضروری ہے کہ ایک موت اپنے اوپر وارد کرے اور مانگنے کا حق اسی کا ہے جو اوّل اس موت کو حاصل کر لے حقیقت میں اسی موت کے نیچے دعا کی حقیقت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہوجاتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھا تے ہیں۔یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہو اُسے چاہیے کہ دعا کرے۔۱ ان۲ آنکھوں سے وہ نظر نہیں آتا بلکہ دعا کی آنکھوں سے نظر آتا ہے کیونکہ اگر دعا کے قبول کرنے والے کا پتا نہ لگے تو جیسے لکڑی کو گھن لگ کر وہ نکمّی ہو جاتی ہے ویسے ہی انسان پکار پکار کر تھک کر آخر دہریہ ہو جاتا ہے ایسی دعا چاہیے کہ اس کے ذریعہ ثابت ہو جاوے کہ اس کی ہستی بر حق ہے جب اس کو یہ پتا لگ جاوے گا تو اس وقت وہ اصل میں صاف ہوگا یہ بات اگرچہ بہت مشکل نظر آتی ہے لیکن اصل میں مشکل بھی نہیں ہے بشرطیکہ تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیو ے جیسے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵) کے معنوں میں (ابھی تھوڑے دن ہوئے ) بتلایا گیا ہے۔نماز پوری پڑھو، صدقہ اور خیرات دو تو پوری نیّت سے دو کہ خدا راضی ہو جاوے اور توفیق طلب کرتے رہو کہ رِیاکاری، عُجب وغیرہ زہریلے اثر جس سے ثواب اور اجر باطل ہوتا ہے دور ہو جاویں اور دل اخلاص سے بھر جاوے۔خدا پر بد ظنّی نہ کرو وہ تمہارے لیے ان کاموں کو آسان کر سکتا ہے وہ رحیم کریم ہے ۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ ؍اپریل ۱۹۰۴ءصفحہ ۳تا ۶۔نوٹ۔الحکم کے اس پرچہ میں بھی غلطی سے ۲۴؍اپریل کی تاریخ درج ہے جو دراصل ۱۷ ؍اپریل ہے۔(مرتّب ) ۲ یہ مضمون جو گذشتہ مضمون کے تسلسل میں ہے البدر سے لیا گیا ہے کیونکہ الحکم میں درج ہونے سے رہ گیا ہے۔(مرتّب)