ملفوظات (جلد 6) — Page 123
ہزاروں خرابیاں خود بخود دور ہونے لگتی ہیں اور جب اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اس کا متکفّل اور متولّی ہوتا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کو مانگے اللہ تعالیٰ خود اس کو پورا کر دیتا ہے۔یہ ایک باریک سِر ہے جواس وقت کھلتا ہے جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے اس سے پہلے اس کی سمجھ میں آنا بھی مشکل ہوتا ہے لیکن یہ ایک عظیم الشّان مجاہدہ کا کام ہے کیونکہ دعا بھی ایک مجاہدہ کو چاہتی ہے جو شخص دعا سے لاپروائی کرتا ہے اور اس سے دور رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا اور اس سے دور ہو جاتا ہے۔جلدی اور شتاب کاری یہاں کام نہیں دیتی خدا تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے جو چاہے عطا کرے اور جب چاہے عنایت فرمائے۔سائل کا کام نہیں ہے کہ وہ فی الفور عطا نہ کئے جانے پر شکایت کرے اور بد ظنی کرے بلکہ استقلال اور صبرسے مانگتا چلا جاوے۔دنیا میں بھی دیکھو کہ جو فقیر اڑ کر مانگتے ہیں اور خواہ اس کو کتنی ہی جھڑ کیاں دو اور جتنا چاہو گُھرکو مگر وہ مانگتے چلے جاتے ہیں اور اپنے مقام سے نہیں ہٹتے یہاں تک کہ کچھ نہ کچھ لے ہی مَرتے ہیں اور بخیل سے بخیل آدمی بھی ان کو کچھ نہ کچھ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اسی طرح پر انسان جب اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے اور بار بار مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ تو کریم رحیم ہے وہ کیوں نہ دے؟ دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے مگر مانگنے والا بھی ہو۔انسان اپنی شتاب کاری اور جلد بازی کی وجہ سے محروم ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بالکل سچا ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) پس تم اس سے مانگو اور پھر مانگو اور پھر مانگو جو مانگتے ہیں ان کو دیا جاتا ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ دعا ہو نری بک بک نہ ہو اور زبان کی لاف زنی اور چرب زبانی ہی نہ ہو۔ایسے لوگ جنہوں نے دعا کے لیے استقامت اور استقلا ل سے کام نہیں لیا اور آداب دعا کو ملحوظ نہیں رکھا جب ان کو کچھ ہاتھ نہ آیا تو آخر وہ دعا اور اس کے اثر سے منکر ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ سے بھی منکر ہو بیٹھے کہ اگر خدا ہوتا تو ہماری دعا کو کیوں نہ سنتا۔ان احمقوںکو اتنا معلوم نہیں کہ خدا تو ہے مگرتمہاری دعائیں بھی دعائیں ہوتیں پنجابی زبان میں ایک ضرب المثل ہے جو دعا کے مضمون کو خوب