ملفوظات (جلد 6) — Page 113
حاصل کرے گا۔مگر یاد رکھوکہ یہ بات یو نہی حاصل نہیں ہوسکتی اس کے لیے ضروری ہے کہ تم نمازوں میں دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے راضی ہو جاوے اور وہ تمہیں توفیق اور قوت عطافرماوے کہ تم گناہ آلود زندگی سے نجات پاؤ کیونکہ گناہوں سے بچنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی توفیق شاملِ حال نہ ہو اور اس کا فضل عطا نہ ہو اور یہ توفیق اور فضل دعا سے ملتا ہے اس واسطے نمازوں میں دعا کرتے رہو کہ اے اللہ ہم کو ان تمام کاموں سے جو گناہ کہلاتے ہیں اور جو تیری مرضی اور ہدایت کے خلاف ہیں بچا اور ہر قسم کے دکھ اور مصیبت اور بَلا سے جو ان گناہوں کا نتیجہ ہے بچا اور سچے ایمان پر قائم رکھ آمین۔کیونکہ انسان جس چیز کی تلاش کرتا ہے وہ اس کو ملتی ہے اور جس سے لاپروائی کرتا ہے اس سے محروم رہتا ہے جو ئندہ یا بندہ مثل مشہور ہے مگر جو گناہ کی فکر نہیں کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ہیں وہ پاک نہیں ہوسکتے گناہوں سے وہی پاک ہوتے ہیں جن کو یہ فکر لگی رہتی ہے۔اخلاقی گناہ بہت سے آدمی اس دنیا میں ایسے ہیں کہ ان کی زندگی ایک اندھے آدمی کی سی ہے کیونکہ وہ اس بات پر کوئی اطلاع ہی نہیں رکھتے کہ وہ گناہ کرتے ہیں یا گناہ کسے کہتے ہیں عوام تو عوام بہت سے عالموں فاضلوں کو بھی پتا نہیں لگتا کہ وہ گناہ کررہے ہیں حالانکہ وہ بعض گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں گناہوں کا علم جب تک نہ ہو اور پھر انسان ان سے بچنے کی فکر نہ کرے تو اس زندگی سے کوئی فائدہ نہ اس کو ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو خواہ سوبرس کی عمر بھی کیوں نہ ہو جاوے لیکن جب انسان گناہ پر اطلاع پالے اور ان سے بچے تو وہ زندگی مفید زندگی ہوتی ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے اور اپنے حالات اور اخلاق کو ٹٹولتا نہ رہے کیونکہ بہت سے گناہ اخلاقی ہوتے ہیں جیسے غصہ، غضب،کینہ، جوش، ریا، تکبّر، حسد اعلیٰ حضرت جب تقریر فرماتے فر ماتے اس مقام پر پہنچے تو ایک بھائی آپ کی پُر تاثیر تقریر سے متاثر ہوکر اٹھ کھڑا ہوا وہ کچھ عرض کرنا چاہتا تھا مگر پاس ادب سے وہ خاموش رہا جب حضرت تقریر کر چکے تو عرض کیاحضور مجھ میں غصّہ بہت ہے دعاکریں۔فر مایا۔’’اچھا دعا کریں گے‘‘ ( ایڈیٹر الحکم)