ملفوظات (جلد 6) — Page 102
خدمت گز ار ہو اور نیز جذبات نفس سے محفوظ رہے اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں رحم اور تقویٰ مدّ ِنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہو جاتی ہیں۔۳ اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائیداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیت سے سب ھمّ وغم رکھتا ہے تو پھر گناہ ہے۔اس قسم کے قصور اور کسر یں ہوتی ہیں جن سے تاریکی میں ایمان رہتا ہے لیکن جب ہر حرکت وسکون خدا ہی کے لیے ہو جاوے تو ایمان روشن ہو جاتا ہے اور یہی غرض ہر مسلمان مومن کی ہونی چاہیے کہ ہر کام میں اس کے خدا ہی مدّ ِنظر ہو۔کھانے پینے عمارت بنانے دوست دشمن کے معاملات غرض ہر کام میں خدا تعالیٰ ملحوظ ہو توسب کاروبار عبادت ہو جاتا ہے لیکن جب مقصود متفرق ہوں پھر وہ شرک کہلاتا ہے مگر مومن دیکھے کہ خدا کی طرف نظر ہے یا اور قصد ہے۔اگر اَور طرف ہے تو سمجھے کہ دور ہو گیا ہے صید نزدیک است دور انداختہ بات مختصر ہوتی ہے مگراپنی بد قسمتی سے لمبی بنا کر محروم ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف تبتّل۱ کرنا اور اس کو مقصود بنانا اہل وعیال کی خدمت اسی لحاظ سے کرناکہ وہ امانت ہے اس طرح پر دین محفوظ رہتا ہے کیونکہ اس میں خدا کی رضا مقصود ہوتی ہے لیکن جب دنیا کے رنگ میں ہو اور غرض وارث بنانا ہو تو اس طرح پر خدا کے غضب کے نیچے آجاتا ہے۔سچا مسلم اولاد تو نیکوکاروں اور ماموروں کی بھی ہوتی ہے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد بھی دیکھو کس قدر کثرت سے ہوئی کہ کوئی گِن نہیں سکتامگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا خیال اور طرف تھا۔بلکہ ہر حال میں خدا ہی کی طرف رجوع تھا اصل اسلام اسی کا نام ہے جوابراہیم کو بھی کہا کہ اَسْلِمْ۲ جب ایسے رنگ میں ہو جاوے تو وہ شیطان اور جذباتِ نفس سے الگ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا کی راہ میں جان تک کے دینے میں بھی دریغ نہ کرے اگر جاںنثار ی سے دریغ کرتا ہے تو خوب جان لے کہ وہ سچا مسلم نہیں ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بے حد اطاعت ہو اور پوری عبودیت کا نمونہ دکھاوے یہاں تک کہ آخری امانت جان بھی دے دے اگر بخل کرتا ہے تو پھر سچامومن اور مسلم کیسے ٹھہر سکتا ہے لیکن اگر وہ جانبازی کرنے والا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو بڑا ہی پیارا اور محبوب ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے۔صحابہؓ نے یہی کیا۔انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کی۱ اور اپنے خون بہا دئیے۔شہید بھی وہی ہوتا ہے جوجان دینے کا قصد کرتا ہے اگریہ نہیں تو پھر کچھ نہیں۔۱ البدر سے۔’’ خدا تعالیٰ اس کا تذکرہ فر ماتا ہے کہ ان میں سے بہتوں نے جان دے دی اور بعض ابھی تک منتظر ہیں۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۲ البدر سے۔’’دعا کرتے رہیں کہ خدا تعالیٰ شماتتِ اعداء سے بچاوے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۳ البدر سے۔’’ اگر ان کے بعدانسان نے عمر پائی اور پھر بھی باز نہ آیا تو یہ بہت ہی بُری بات ہے گناہ بہت بُری شَے ہے جس قدر امراض جسمانی ہیں شاید اتنے ہی گناہ بھی ہیں اور امراض کی طرح بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کی جزو ہوتے ہیں۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴)