ملفوظات (جلد 6) — Page 101
اصول پر کرے تو ثواب ہوگا۔اور بیوی اسیر کی طرح ہے اگر یہ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ(النسآء:۲۰)پر عمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے۔غرض ان سب کی غوروپرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور ان کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا (الفرقان:۷۵)کا لحاظ ہو کہ یہ اولاد دین کی خادم ہو۱ لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں۲ کہ اولاد دین کی پہلوان ہو بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں۔اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لیے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے اور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے مگر یادرکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔اولادکی خواہش غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔اسی طرح پر بیوی کرے تاکہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولاد دین کی سچی خدمت گز ار ہو اور نیز جذبات نفس سے محفوظ رہے اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں رحم اور تقویٰ مدّ ِنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہو جاتی ہیں۔۳ اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائیداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس ۱ البدر سے۔’’انسان کو چاہیے کہ ہر ایک کاروبار میں تَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا (المزّمل:۹) کا مصداق ہو یعنی ہر ایک کام کو اس طرح سے بجالاوے گو یا وہ خود اس میں نفسانی حظّ کوئی نہیںرکھتا صرف خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی وجہ سے بجالارہا ہے اور اسی نیت سے مخلوق کے حقوق کوادا کرنا دین ہے ہر ایک بات اور کام کاآخری نقطہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی ہو نی چاہیے اگر دنیا کے لیے ہے تو خدا تعالیٰ کا غضب کماتا ہے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۲ البدر سے۔’’ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اَسْلَمْتُ کہہ دیا تھا ویسے ہی اطاعت اللہ تعالیٰ کی کی جاوے اور کسی غیر کو اس میں شریک نہ کیا جاوے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴)