ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 101

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۱ جلد ششم کھانے پینے عمارت بنانے دوست دشمن کے معاملات غرض ہر کام میں خدا تعالیٰ ملحوظ ہو تو سب کا روبار عبادت ہو جاتا ہے لیکن جب مقصود متفرق ہوں پھر وہ شرک کہلاتا ہے مگر مومن دیکھے کہ خدا کی طرف نظر ہے یا اور قصد ہے ۔ اگر اور طرف ہے تو سمجھے کہ دور ہو گیا ہے صید نزدیک است دور انداختہ بات مختصر ہوتی ہے مگر اپنی بد قسمتی سے لمبی بنا کر محروم ہو جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کی طرف تبتل لے کرنا اور اس کو مقصود بنانا اہل وعیال کی خدمت اسی لحاظ سے کرنا کہ وہ امانت ہے اس طرح پر دین محفوظ رہتا ہے کیونکہ اس میں خدا کی رضا مقصود ہوتی ہے لیکن جب دنیا کے رنگ میں ہو اور غرض وارث بنانا ہو تو اس طرح پر خدا کے غضب کے نیچے آجاتا ہے۔ مسلم اولاد تو نیکوکاروں اور ماموروں کی بھی ہوتی ہے ابراہیم علیہ السلام کی اولا د بھی دیکھو سچا مسلم کی قدر کثرت سے ہوئی کہ کوئی ہی نہیں سکا مگر کوئی نہیں کر سکتا کہ ان سے ا کہ ان کا خیال اور طرف تھا۔ بلکہ ہر حال میں خدا ہی کی طرف رجوع تھا اصل اسلام اسی کا نام ہے جو ابراہیم کو بھی کہا کہ اسلم جب ایسے رنگ میں ہو جاوے تو وہ شیطان اور جذبات نفس سے الگ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا کی راہ میں جان تک کے دینے میں بھی دریغ نہ کرے اگر جاں شاری سے دریغ کرتا ہے تو خوب جان لے کہ وہ سچا مسلم نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بے حد اطاعت ہو اور پوری عبودیت کا نمونہ دکھاوے یہاں تک کہ آخری امانت جان بھی دے دے اگر بخل کرتا ہے تو پھر سچا مومن اور مسلم کیسے ٹھہر سکتا ہے لیکن اگر وہ جانبازی کرنے والا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو بڑا ہی پیارا اور محبوب ہے۔ وہ ل البدر سے ۔ انسان کو چاہیے کہ ہر ایک کاروبار میں تَبَثَّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل:۹) کا مصداق ہو یعنی ہر ایک کام کو اس طرح سے بجالا وے گویا وہ خود اس میں نفسانی حظ کوئی نہیں رکھتا صرف خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی وجہ سے بجالا رہا ہے اور اسی نیت سے مخلوق کے حقوق کو ادا کرنا دین ہے ہر ایک بات اور کام کا آخری نقطہ خدا تعالیٰ کی رضامندی ہونی چاہیے اگر دنیا کے لیے ہے تو خدا تعالیٰ کا غضب کماتا ہے ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۴) کے البدر سے۔ ” جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اسکیت کہہ دیا تھا ویسے ہی اطاعت اللہ تعالیٰ کی کی جاوے اور کسی غیر کو البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۴) اس میں شریک نہ کیا جاوے۔“ 66