ملفوظات (جلد 6) — Page 100
ہوتا ہے کہ مسیح کا پھر آنا فضول ہے اور جو شخص قرآنِ کریم کی اس شہادت اور پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کو منظور نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مُردوں میں یحییٰ کے پاس دیکھ آئے ہیں اس پر بھی جو انکار کرتا ہے وہ خبیث ہے۔اولاد اور دوسرے متعلّقین کی مناسب خبر گیری غرض جبکہ یہ ثابت ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس آنا نہیں ہے اور یہاں سے سب قصّہ تمام کرکے جائیں گے اور پھر دنیا سے کوئی تعلق باقی نہ رہے گا تو املاک واسباب کا خیال کرناکہ اس کا وارث کوئی ہو، یہ شرکاء کے قبضہ میں نہ چلے جاویں فضول اور دیوانگی ہے ایسے خیالات کے ساتھ دین جمع نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ منع نہیں بلکہ جائز ہے کہ اس لحاظ سے اولاداور دوسرے متعلّقین کی خبرگیری کرے کہ وہ اس کے زیردست ہیں تو پھر یہ بھی ثواب اور عبادت ہی ہو گی اور خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہوگا جیسے فرمایا ہے وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّاَسِيْرًا (الدّھر:۹) اس آیت میں مسکین سے مراد والدین بھی ہیں کیونکہ وہ بوڑھے اور ضعیف ہو کر بے دست وپا ہو جاتے ہیں اور محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالنے کے قابل نہیں رہتے اس وقت ان کی خدمت ایک مسکین کی خدمت کے رنگ میں ہوتی ہے اور اسی طرح اولاد جو کمزورہو تی ہے اور کچھ نہیں کرسکتی اگر یہ اس کی تربیت اور پرورش کے سامان نہ کرے تو وہ گویا یتیم ہی ہے پس ان کی خبرگیری اور پرورش کا تہیّہ اس اصول پر کرے تو ثواب ہوگا۔۱ ۱لبدر سے۔’’کہ اس کے بعد اس کے حق میںدعا کرے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۲ البدر سے۔’’سوچ کر دیکھو کہ کتنے ایسے ہیں جو اس نیت اور ارادہ سے اولاد کی خواہش کرتے ہیں اور تہجدکے وقت اٹھ کر خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اے مولا تو ایسی اولاد دے جو متقی ہوتیری راہ میں جان دینے والی ہو۔‘ ‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۳ البدر سے۔’’رحم اور شفقت کی نظر سے یہ نیت بھی ہوسکتی ہے کہ ان کے لیے کچھ املاک چھوڑ جاؤں تا کہ ضائع نہ ہوں اور دربدربھیک نہ مانگتے پھریں یاافلاس سے تنگ آکر تبدیل مذہب نہ کرلیں اور اگر ان نیتوں سے باہر جاتا ہے تو دین سے باہر جاتا ہے اور ایمان کو تاریکی میں رکھ کر اس کے ثمرات اور برکات سے بے نصیب رہتا ہے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴)