ملفوظات (جلد 6) — Page 99
میں ایک راحت اور اطمینان پا لیتا ہے اور ایک تبدیلی اس میں پیدا ہو جاتی ہے جب تک یہ تبدیلی نہ ہو نماز، روزہ، کلمہ، زکوٰۃ وغیرہ ارکان محض رسمی اور نمائشی طور پر ہیں۔ان میں کوئی روح اور قوت نہیں ہے اور ایسا انسان خطرہ کی حالت سے نکل کرامن میں آجاتا ہے۔یاد رکھو جب انسان کا وجود خدا کی محبت میں گم ہو جاوے اس وقت وہ جان لے کہ خدا سچی محبت رکھتا ہے کیونکہ دل را بدل رہے است مشہور ہے۔اہل وعیال کا تہیّہ بہت سے لوگ ہیں جو اہل وعیال کا تہیّہ کرتے ہیں اور ان کے سارے ھمّ وغم اسی پر آکر ختم ہو جاتے ہیں کہ ان کی اولاد ان کے بعد ان کے مال واسباب اور جائیدادکی مالک اور جانشین ہو اگر انسان کی خواہش اسی حد تک محدود ہے اور وہ خدا کے لیے کچھ بھی نہیں کرتا تو یہ جہنمی زندگی ہے اس کو اس سے کیا فائدہ جب یہ مَر گیا تو پھر کیا دیکھنے آئے گا کہ اس کی جائیداد کا کون مالک ہوا ہے اور اس سے اس کو کیا آرام پہنچے گا اس کا تو قصّہ پاک ہو چکا اور یہ کبھی پھر دنیا میں نہیں آئے گا اس لیے ایسے ھمّ وغم سے کیا حاصل جو دنیا میں جہنمی زندگی کا نمونہ ہے اور آخرت میں بھی عذاب دینے والا۔مُردوں کا واپس آنا قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مُردوں کے واپس نہ آنے کے دو وعدے ہیں ایک جہنمیوں کے لیے جیسے فرمایا حَرٰمٌ عَلٰى قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ(الانبیآء:۹۶) اَهْلَكْنٰهَا عذاب پر بھی آتا ہے اس سے پایا جاتا ہے کہ خراب زندگی کے لوگ پھر واپس نہیں آئیں گے اور ایسا ہی بہشتیوں کے لیے بھی آیا ہے۔لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا(الکھف:۱۰۹) مسیح کا عدم رجوع دو ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور دونوں کا عدمِ رجوع ثابت ہے پر معلوم نہیں کہ مسیح کو کس طرح پر واپس لاتے ہیں۔ان سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کا پھر آنا فضول ہے اور جو شخص قرآنِ کریم کی اس شہادت اور پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم