ملفوظات (جلد 6) — Page 99
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۹ مسیح کا عدم رجوع دوری قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور دونوں کا عدم رجوع ثابت ہے پر عدم معلوم نہیں معلوم نہیں کہ مسیح کو کس طرح پر واپس لاتے ہیں ۔ ان سے صاف ثابت کس ہوتا ہے کہ مسیح کا پھر آنا فضول ہے اور جو شخص قرآن کریم کی اس شہادت اور پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کو منظور نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مردوں میں یحییٰ کے پاس دیکھ آئے ہیں اس پر بھی جو انکار کرتا ہے وہ خبیث ہے۔ اولا داور دوسرے متعلقین کی مناسب خبر گیری غرض جبکہ یہ ثابت ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس آنا نہیں ہے اور یہاں سے سب قصہ تمام کر کے جائیں گے اور پھر دنیا سے کوئی تعلق باقی نہ رہے گا تو املاک و اسباب کا خیال کرنا کہ اس کا وارث کوئی ہو، یہ شرکاء کے قبضہ میں نہ چلے جاویں فضول اور دیوانگی ہے ایسے خیالات کے ساتھ دین جمع نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ منع نہیں بلکہ جائز ہے کہ اس لحاظ سے اولاد اور دوسرے متعلقین کی خبر گیری کرے کہ وہ اس کے زیر دست ہیں تو پھر یہ بھی ثواب اور عبادت ہی ہوگی اور خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہو گا جیسے فرمایا ہے وَ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمًا وَ أَسِيرًا ( الدهر : ٩) اس آیت میں مسکین سے مراد والدین بھی ہیں کیونکہ وہ بوڑھے اور ضعیف ہو کر بے دست و پا ہو جاتے ہیں اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے کے قابل نہیں رہتے اس وقت ان کی خدمت ایک مسکین کی خدمت کے رنگ میں ہوتی ہے اور اسی طرح اولاد جو کمزور ہوتی ہے اور کچھ نہیں کر سکتی اگر یہ اس کی تربیت اور پرورش کے سامان نہ کرے تو وہ گویا یتیم ہی ہے پس ان کی خبر گیری اور پرورش کا تہیہ اس اصول پر کرے تو ثواب ہوگا۔ اور بیوی اسیر کی طرح ہے اگر یہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:۲۰) پر عمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے۔ غرض ان سب کی غور و پرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور ان کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان: ۷۵) کا لحاظ