ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 98

کرتے۔ا س کی عدم ضرورت کے واسطے کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ہم نماز اور کلمہ نہیں پڑھتے؟ جو لوگ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں وہ آخر بے نصیب رہ جاتے ہیں۔برکاتِ نماز کا حصول اس میں شک نہیں کہ نماز میں برکات ہیں مگر وہ برکات ہر ایک کو نہیں مل سکتے۔نماز بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نماز پڑھاوے ورنہ وہ نماز نہیں نرا پوست ہے جو پڑھنے والے کے ہاتھ میں ہے اس کو مغز سے کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں۔اسی طرح کلمہ بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کلمہ پڑھوائے۔جب تک نماز اور کلمہ پڑھنے میں آسمانی چشمہ سے گھونٹ نہ ملے تو کیا فائدہ؟ وہ نماز جس میں حلاوت اور ذوق ہو اور خالق سے سچا تعلق قائم ہو کر پوری نیاز مندی اور خشوع کا نمونہ ہو اس کے ساتھ ہی ایک تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے جس کو پڑھنے والا فوراً محسوس کرلیتا ہے کہ اب وہ وہ نہیں رہا جو چند سال پہلے تھا۔ابدال جب یہ تبدیلی اس کی حالت میں واقع ہوتی ہے اس وقت اس کا نام ابدال ہوتا ہے احادیث میں جوابدال آیا ہے اس سے یہی مراد لی گئی ہے کہ کامل انقطاع اور تبتّل کے ساتھ جب خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرکے اپنی حالت میں تبدیلی کرلے جیسے قیامت میں بہشتیوں میں تبدیلیاں ہوں گی کہ وہ چاند یا ستاروں کی مانند ہوں گے اسی طرح پر اسی دنیا میں بھی ان کے اندر ہونی ضروری ہے تاکہ وہ اس تبدیلی پر شہادت ہو۔اسی لیے فرمایا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرَّحـمٰن:۴۷)چو نکہ اس دنیا میں بھی ایک بہشت ہے جو مومن کو دیا جاتا ہے اس کے موافق ایک تبدیلی بھی یہاں ہوتی ہے اس کو ایک خاص قسم کارُعب دیا جاتا ہے جو الٰہی تجلّیّات کے پرتَو سے ملتا ہے نفسِ امّارہ کے جذبات سے اس کو روک دیا جاتا ہے اور نفسِ مطمئنّہ کی سکینت اور اطمینان اس کو ملتا ہے اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں یہاں تک کہ جیسے ابراہیم علیہ السلام کو کہا گیا قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ(الانبیاء:۷۰) اسی طرح پر اس کے لیے کہا جاتا ہے يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا اس آواز پر اس کے سارے جوشوں کو ٹھنڈ ا کر دیا جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ