ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 98

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۸ جلد ششم سکینت اور اطمینان اس کو ملتا ہے اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں یہاں تک کہ جیسے ابراہیم علیہ السلام کو کہا گیا قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء : ۷۰) اسی طرح پر اس کے لیے کہا جاتا ہے يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَّما اس آواز پر اس کے سارے جوشوں کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ میں ایک راحت اور اطمینان پالیتا ہے اور ایک تبدیلی اس میں پیدا ہو جاتی ہے جب تک یہ تبدیلی نہ ہ نماز ، روزہ ،کلمہ، زکوۃ وغیرہ ارکان محض رسمی اور نمائشی طور پر ہیں ۔ ان میں کوئی روح اور قوت نہیں ہے اور ایسا انسان خطرہ کی حالت سے نکل کر امن میں آجاتا ہے۔ یا درکھو جب انسان کا وجود خدا کی محبت میں گم ہو جاوے اس وقت وہ جان لے کہ خدا سچی محبت رکھتا ہے کیونکہ دل را بدل رہے است مشہور ہے۔ و اہل و عیال کا تہیہ بہت سے لوگ ہیں جواہل وعیال کا تہیہ کرتے ہیں اوران کے سارے ھم نغم اسی پر آکر ختم ہو جاتے ہیں کہ ان کی اولا دان کے بعد ان کے مال واسباب اور جائیداد کی مالک اور جانشین ہوا گر انسان کی خواہش اسی حد تک محدود ہے اور وہ خدا کے لیے کچھ بھی نہیں کرتا تو یہ جہنمی زندگی ہے اس کو اس سے کیا فائدہ جب یہ مر گیا تو پھر کیا دیکھنے آئے گا کہ اس کی جائیداد کا کون مالک ہوا ہے اور اس سے اس کو کیا آرام پہنچے گا اس کا تو قصہ پاک ہو چکا اور یہ کبھی پھر دنیا میں نہیں آئے گا اس لیے ایسے ھم و غم سے کیا حاصل جو دنیا میں جہنمی زندگی کا نمونہ ہے اور آخرت میں بھی عذاب دینے والا ۔ مردوں کا واپس آنا قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے واپس نہ آنے کے دو وعدے ہیں ایک جہنمیوں کے لیے جیسے فرمایا حرم علی قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبياء : ٩٦) أَهْلَكْنَهَا عذاب پر بھی آتا ہے اس سے پایا جاتا ہے کہ خراب زندگی کے لوگ پھر واپس نہیں آئیں گے اور ایسا ہی بہشتیوں کے لیے بھی آیا ہے۔ لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ( الكهف : ١٠٩ )