ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 96

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۶ لعنتی زندگی سے ہلاک نہیں کرتا بلکہ اس کا خاتمہ بالخیر کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ جو خدا تعالیٰ سے سچا اور کامل تعلق رکھتا ہو تو خدا تعالیٰ اس کی ساری مراد میں پوری کر دیتا ہے اسے نامراد نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ کی صفت قادر و کریم کا اقتضا اللہ تعالی کی دوصفتیں بڑی قابل غور ہیں اور و ان صفات پر ایمان لانے سے بھی امید وسیع ہوتی اور مومن کا یقین زیادہ ہوتا ہے۔ وہ صفات اس کے قادر اور کریم ہونے کے ہیں جب تک یہ دونوں باتیں نہ ہوں کوئی فیض نہیں ملتا ہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کریم تو ہو اور اس کے پاس ہو تو ہزاروں روپیہ دے دینے میں بھی اسے تامل اور دریغ نہ ہو لیکن اس کے گھر میں کچھ بھی نہ ہو تو اس کی صفت کریمی کا کیا فائدہ یا اس کے پاس روپیہ تو بہت ہو مگر کریم نہ ہو پھر اس سے کیا حاصل؟ مگر خدا تعالیٰ میں یہ دونوں باتیں ہیں۔ وہ قادر ہے اور کریم بھی ہے اور دونوں صفتوں میں بھی وہ وحدہ لاشریک ہے۔ پس جب ایسی قادر اور کریم ذات کے ساتھ کوئی کامل تعلق پیدا کرے تو اس سے بڑھ کر خوش قسمت کون ہوگا؟ بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے وہ شخص جو اس کا فیصلہ کرے۔ سرمد نے کیا اچھا کہا ہے۔ سرمد گله اختصار می باید کرد یک کار ازیں دوکار می باید کرد یا تن برضائے یار می باید کرد یا قطع نظر از یار می باید کرد حقیقت میں اس نے سچ کہا ہے۔ بیمار اگر طبیب کی پوری اطاعت نہیں کرتا تو اس سے کیا فائدہ؟ ایک عارضہ نہیں تو دوسرا اس کو لگ جاوے گا اور وہ اس طرح پر تباہ اور ہلاک ہو گا۔ دنیا میں اس قدر آفتوں سے انسان گھرا ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو اور اس کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو تو پھر سخت خطرہ کی حالت ہے۔ پنجابی میں بھی ایک مصرعہ مشہور ہے۔ عے جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو ل البدر میں ہے۔ ” تب خدا تعالیٰ اسے لعنتی موت سے محفوظ رکھتا ہے۔“ ( البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ار مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۳)