ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 83

ازدیادِ ایمان ایمان کی نعت یہی ہے کہ خدائی نصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔جب وہ خدا کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اس کا ایمان بڑھتا ہے اور معرفت اور بصیرت کی آنکھ کھلنے لگتی ہے۔جب تک خدا تعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی اس وقت یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب ان کی چمکار نظر آ جاتی ہے اس وقت سینہ کی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں اور اندر ایک صفائی اور نور نظر آتا ہے۔وہ حالت ہوتی ہے جب اس کے لیے کہا جاتا ہے اِتَّقُو ا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہِ۔عابد کامل سے عبادت کا ساقط ہو جانا اہل اللہ کہتے ہیں کہ جب انسان عابد کامل ہو جاتا ہے اس وقت اس کی ساری عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں۔پھر خود ہی اس جملہ کی شرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز روزہ معاف ہو جاتا ہے نہیں بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ تکالیف ساقط ہو جاتی ہیں یعنی عبادات کو وہ ایسے طور پر ادا کرتا ہے جیسے دونوں وقت روٹی کھاتا ہے۔وہ تکالیف مدرک الحلاوت اور محسوس اللذّات ہو جاتی ہیں۔پس ایسی حالت پیدا کرو کہ تمہاری تکالیف ساقط ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور نہی سے بچنا فطرتی ہو جاوے۔جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو گویا ملائکہ میں داخل ہو جاتا ہے جو يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ کے مصداق ہیں۔ثوابِ عبادت ضائع ہونے کا مطلب سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی عارف اور عابد ہو جاتا ہے تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔پھر خود ہی اس کی تشریح کرتے ہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہر نیکی کا اجر نقد پا لیتے ہیں یعنی جب نفسِ امّارہ بدل کر مطمئنہ ہو جاتا ہے تو وہ تو جنّت میں پہنچ گیا۔جو کچھ پانا تھا پالیا۔اس لحاظ سے ثواب نہیں رہتا۔مگر بات اصل یہ ہے کہ ترقیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔(بقیہ حاشیہ) ہوتی ہے۔مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ان لوگوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی تعریف میں تو اس قدر غلو کیا ہے۔مگر امام حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے وقت ان لوگوں سے ایسا دلی جوش صادر نہیں ہوتا۔اس کی وجہ معلوم نہیں کیا ہے؟ شائد یہی باعث ہوکہ انہوں نے حضرت معاویہ کی بیعت کرلی تھی۔(الحکم جلد۷ نمبر۱۶مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸)