ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 79

بعد وفات میّت کو کیا شَے پہنچتی ہے فرمایا کہ دعا کا اثر ثابت ہے یا ایک روایت میں ہے کہ اگر میّت کی طرف سے حج کیا جاوے تو قبول ہوتا ہے اور روزہ کا ذکر بھی ہے۔ایک شخص نے عرض کی کہ حضور یہ جو ہے لَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (النجم:۴۰) فرمایا کہ اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ بھائی کے حق میں دعا نہ قبول ہو تو پھر سورۃ فاتحہ میں اِهْدِنَا کی بجائے اِھْدِنِیْ ہوتا۔(مجلس قبل از عشاء ) اسباب پر نظر ایک شخص کی موت کا ذکر ہوا۔اس کا باعث بیان ہوا کہ فلاں مرض اور اسباب تھے۔فرمایا کہ جب انسان یہیں آکر ٹھہر جاوے کہ فلاں باعث موت کا ہے اور آگے نہ چلے تو ایسی باتیں معرفت کی روک ہیں اوراس سے نظر اسباب تک ہی رہتی ہے۔لَوْلَا الْاِ کْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ فرمایا۔جب طاعون کی آگ بھڑک رہی ہے تو اب کوئی سوچے کہ ایک مفتر ی کہہ سکتا ہے کہ لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ کیا ممکن نہ تھا کہ وہ خود ہی مَر جاوے اور طاعون کا شکا ر ہو۔اس وقت قادیان مثلِ مکہ ہے کہ اس کے اردگر دلوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور یہاں خدا کے فضل سے بالکل امن ہے مکہ کی نسبت بھی ہے يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ (العنکبوت:۶۸)کہ لوگ اس کے گرد ونواح سے اچک لیے جاویں گے لَوْلَا الْاِکْرَامُ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سر زمین سے راضی نہیں ہے اور مجھے یہ بھی الہام ہوا ہے مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ۔قنوت آج کل چونکہ وبا کا زور ہے اس لیے نمازوں میں قنوت پڑ ھنا چاہیے۔۱ ۱ البدر جلد۲ نمبر۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۴،۱۱۵