ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 78

قرآن شریف،احادیث اور ایک قوم کے تقویٰ طہارت اور سنّت کو جب آپس میں ملایا جاوے تو پھر پتا لگ جاتا ہے کہ اصل سنّت کیا ہے۔نماز اور قرآن شریف کا ترجمہ جاننا ضروری ہے اس پر مولانا مولوی محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (النساء:۴۴) سے ثابت ہے کہ انسان کو اپنے قول کا علم ہونا ضروری ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جن لوگوں کو ساری عمر میں تَعْلَمُوْا نصیب نہ ہو ان کی نماز ہی کیا ہے۔مزکّی کی ضرورت ایک عورت کا ذکرکرتے ہیں کہ نماز پڑھا کرتی تھی۔ایک دن اس نے پوچھا کہ درود میںجو صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ آتا ہے اس کے کیا معنے ہیں۔خاوند نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول تھے اس پر اس نے تعجب کیا اور کہا کہ ہائے ہائے میں ساری عمربیگانہ مرد کا نام لیتی رہی(یہ حالت آج کل اسلام اور مسلمانوں کی ہے اور پھر اس پر کہا جاتا ہے کہ ایک مزکّی نفس انسان کی ضرورت نہیں ہے) قرآن کا صرف ترجمہ کافی ہے کہ نہیں فرمایا۔ہم ہرگز فتویٰ نہیں دیتے کہ قرآن کا صرف ترجمہ پڑھا جاوے۔اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے جو شخص یہ کہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میں نہ رہے بلکہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو دعائیں رسول اللہ نے مانگی ہیں وہ بھی عربی میں پڑھی جاویں دوسرے جو اپنی حاجات وغیرہ ہیں ماثورہ دعا کے علاوہ وہ صرف اپنی زبان میں مانگی جاویں۔ایک شخص نے کہا کہ حضور حنفی مذہب میں صرف ترجمہ پڑھ لینا کافی سمجھاگیا ہے۔فرمایا کہ اگر یہ امام اعظم کا مذہب ہے تو پھر ان کی خطا ہے۔صدقہ اور ہدیہ میں فرق صدقہ میں ردّ ِبَلا ملحوظ ہوتی ہے اور یہ صدق سے نکلا ہے کیونکہ اس کے عملدرآمد میں انسان اللہ تعالیٰ کو صدق صفا دکھلاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہد یہ ہدایت سے نکلا ہو کہ آپس میں محبت بڑھے۔