ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 77

فرمایاکہ میرے نزدیک یہ فضول باتیں ہیں۔ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علیؓ نے ایک شخص کو دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت نماز ادا کررہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں۔اس کی شکایت حضرت علی ؓ کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰى عَبْدًا اِذَا صَلّٰى (العلق:۱۰، ۱۱) یعنی تونے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔نماز جورہ جاوے اس کا تدارک نہیں ہوسکتا ہاں روزہ کا ہوسکتا ہے۔اور جو شخص عمداًسال بھر اس لیے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضا عمری والے دن ادا کرلوں گا وہ تو گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر توبہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لیے حرج نہیں۔۱ ہم تو اس معاملہ میں حضرت علیؓ ہی کا جواب دیتے ہیں۔نماز کے بعد دعا سوال ہوا کہ نماز کے بعد دعا کرنی یہ سنّت اسلام آئی ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ہم انکار نہیں کرتے۔آنحضرت نے دعا مانگی ہوگی مگر ساری نماز دعا ہی ہے اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز کو جلدی جلدی ادا کرکے گلے سے اتارتے ہیں۔پھر دعائوں میں اس کے بعد اس قدر خشوع خضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دومیل تک نکل جاوے۔بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔خشوع خضوع اصل جزو تو نماز کی ہے وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دعا مانگتے ہیں۔اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعائوں کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگ سکتا ہے۔سُنّت صحیحہ معلوم کرنے کا طریق جب اسلام کے فرقوں میں اختلاف ہے تو سنّتِ صحیحہ کیسے معلوم ہو؟اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف،احادیث اور ایک قوم کے تقویٰ طہارت اور سنّت کو جب آپس میں ملایا جاوے تو پھر پتا لگ جاتا ہے کہ اصل سنّت کیا ہے۔۱ الحکم سے۔’’اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو۔کیوںمنع کرتے ہو۔آخر دعا ہی کرتا ہے۔ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے۔پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آجائو۔‘‘ (الحکم جلد ۷نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲ )