ملفوظات (جلد 5) — Page 62
کہ جب مماثلت ہے موسوی اورمحمدی سلسلوں میں تو محمدی سلسلے میں موسوی سلسلے کی طرح نبی کیوں نہ آئے؟ یہ حصہ ایسا ہے جس سے ایک انسان کو دھوکا لگ سکتا ہے۔لہٰذا ہم اس کے متعلق زیادہ تشریح کر دیتے ہیں۔اوّل تو وہی بات کہ مماثلت کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرے کا وہ عین ہو۔مشُبّہ اور مُشَبَّہ بِہٖ میں ضرور فرق ہوتا ہے۔ایک خوبصورت انسان کو چاند سے مشابہت دے دیتے ہیں۔مگر چاہیے کہ اس میں ایسے انسان کا ناک نہ ہو۔کان نہ ہوں۔صرف ایک گول سفید چمکیلا سا ٹکڑا ہو۔اصل بات یہ ہے کہ مشابہت کے واسطے بعض حصے میں مشابہت ضرور ہوتی ہے۔۱ دیکھیے حضرت موسیٰ سے آنحضرتؐکو مشابہت ہے اور اس میں صرف اعلیٰ جزو یہی ہے کہ حضرت موسٰی نے ایک قوم کو جو فرعون کے ماتحت غلامی میں مبتلا تھی اور ان کے حالات گندہ ہوگئے تھے وہ خدا کو بھول گئے تھے اور ان کے خیالات اور ہمتیں پست ہوگئی تھیں۔موسٰی نے اس قوم کو فرعون سے نجات دلائی اور ان کو خدا سے تعلق پیدا کرنے کے قابل بنادیا۔اسی طرح آنحضرتؐنے بھی ایک قوم کو بتوں کی غلامی اور راہ ورسم کی قید سے نجات دلائی اور اپنے دشمن کو فرعون کی طرح ہلاک و برباد کیا۔یہ مشابہت تھی۲ ا گر غور سے دیکھا جاوے تو ہمارے نبی کریمؐ کو آپ کے بعد کسی دوسرے کے نبی نہ کہلانے سے شوکت ہے اور حضرت موسٰی کے بعد اور لوگوں کے بھی نبی کہلانے سے ان کی کسرِ شان۔کیونکہ حضرت موسٰی بھی ایک نبی تھے اور ان کے بعد ہزاروں اور بھی نبی آئے تو ان کی نبوت کی خصوصیت اور عظمت کوئی نہیں ثابت ہوتی۔برعکس اس کے آنحضرتؐکی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کے لفظ کا پاس اور ادب کیا گیا ہے کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی طرح بھی شریک نہ کیا گیا۔۱ البدر میں ہے۔’’ مماثلت میں عین ہونا ضروری نہیں کیونکہ اگر بالکل وہی ہوگیا تو پھر وہی چیز ہوئی نہ کہ مثال اس لیے کچھ نہ کچھ فرق ہونا ضروری ہے۔جیسے کسی کو اگر شیر کہا جاوے تو یہ ضرور نہیں کہ وہ کچا گوشت بھی کھاتا ہو اور اُس کے ایک دُم بھی ہو اور جنگلوں میں رہتا ہو وغیرہ وغیرہ۔صرف بعض صفات شجاعت وغیرہ میں اس کی مماثلت ہوگی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹ ) ۲ البدر میں ہے۔’’مشا بہت میں مِن وجہٍ مخالفت چاہیے اور مِن وجہٍ مطابقت اور اس اُمّت میں جو مراتب خدا تعالیٰ نے رکھے ہیں وہ موسوی سلسلہ سے بہت زیادہ ہیں۔اگر اسی کے برابر ہوتے تو پھر فضلیت کیا ہوتی۔پھر جس قدرعلوم کی کثرت اور وسعت اس وقت اس اُمّت میں ہے کیا وہ موسوی اُمّت میں تھی؟ چونکہ خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ اور کوئی شریعت اب آ نحضرتؐکے بعد نہ ہوگی اس لیے آپ کو وہ علوم اور الفاظ دیئے کہ کسی کو پھر نئی شریعت کی ضرورت ہی نہ پڑے۔خاتم النّبیّین کی آیت بتلا رہی ہے کہ جسمانی نسل کا انقطاع ہے نہ کہ رُوحانی نسل کا۔اس لیے جس ذریعہ سے وہ نبوت کی نفی کرتے ہیں اسی سے نبوت کا اثبات ثابت ہے۔آنحضرتؐکی چونکہ کمال عظمت خدا تعالیٰ کو منظو ر تھی اس لیے لکھ دیا کہ آ ئندہ نبوت آپ کی اتباع کی مہر سے ہوگی اور اگر یہ معنے ہوں کہ نبوت ختم ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کے فیضان کے بخل کی بُو آتی ہے۔ہاں یہ معنے ہیں کہ ہر ایک قسم کا کمال آنحضرتؐپر ختم ہوا اور پھر آئندہ آپ کی مُہر سے وہ کمال آپ کی اُمّت کو ملا کریں گے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹ )