ملفوظات (جلد 5) — Page 61
یہ سچ ہے کہ انسان کے واسطے یہ مشکل ہے کہ وہ سچی توبہ کرے ایک طرف سے توڑ کر دوسری طرف جوڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ہاں مگر جسے خدا توفیق دے۔ہاں ادب سے، حیا سے، شرم سے اُس سے دعا اور التجا کرنی چاہیے کہ وہ توفیق عطا کرے اور جو ایسا کرتے ہیں وہ پابھی لیتے ہیں اور ان کی سُنی بھی جاتی ہے۔صرف باتونی آدمی مفید نہیں ہوتا۔کپڑا جتنا سفید ہوتا ہے اور پہلے اس پر کوئی رنگ نہیں دیا جاتا اتنا ہی عمدہ رنگ اس پر آتا ہے۔پس تو اس طرح اپنے آپ کو پاک کرو تا تم پر خدائی رنگ عمدہ چڑھے۔اہلِ بیت جو ایک پاک گروہ اور بڑا عظیم الشان گھرانا تھا۔اس کے پاک کرنے کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا (الاحزاب:۳۴) میں بھی ان سے ناپاکی اور نجاست کو دور کروں گا اور خود ہی ان کو پاک کیا تو بھلا اور کون ہے جو خود بخود پاک صاف ہونے کی توفیق رکھتا ہو۔پس لازمی ہے کہ اس سے دعا کرتے رہو اور اسی کے آستانہ پر گرے رہوساری توفیقیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔۱ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) محمدؐی سلسلہ میں موسوی سلسلہ کی طرح نبی کیوں نہیں آئے؟ فرمایا۔رات کے سوال کا یہ حصہ کہ جب مماثلت ہے موسوی اورمحمدی سلسلوں میں تو محمدی سلسلے میں موسوی سلسلے کی طرح نبی کیوں نہ آئے؟ یہ حصہ ایسا ہے جس سے ایک انسان کو دھوکا لگ سکتا ہے۔لہٰذا ہم اس کے متعلق زیادہ تشریح کر دیتے ہیں۔اوّل تو وہی بات کہ مماثلت کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرے کا وہ عین ہو۔مشُبّہ اور مُشَبَّہ بِہٖ میں ضرور فرق ہوتا ہے۔ایک خوبصورت انسان کو چاند سے مشابہت دے دیتے ہیں۔مگر چاہیے کہ اس میں ایسے انسان کا ناک نہ ہو۔کان نہ ہوں۔صرف ایک گول سفید چمکیلا سا ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸،۹