ملفوظات (جلد 5) — Page 52
شیخ رحمت اللہ صاحب کی دعا شیخ رحمت اللہ صاحب کی دوکان کو آگ لگنے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ننگے سراور ننگے پاؤں سجدے میں گر کر دعا کی تو معاً دعا کرتے کرتے خدا نے ہوا کا رخ بدل دیا اور امن امن کی آواز آگئی اور ہر طرح سے اطمینان ہو گیا۔ملائکہ کی حقیقت اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ ہوا، پانی، آگ وغیرہ بھی ایک طرح کے ملائکہ ہی ہیں ہاں بڑے بڑے ملائکہ وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا مگر اس کے سوا باقی اشیاء مفید بھی ملائکہ ہی ہیں چنا نچہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے جہاں فرماتا ہے کہ وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ الـخ(بنی اسـرآءیل:۴۵) یعنی کل اشیاء خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں۔تسبیح کے معنے یہی ہیں کہ جو خدا ان کو حکم کرتا ہے اور جس طرح اس کا منشا ہوتا ہے وہ اسی طرح کرتے ہیں اور ہر ایک اَمر اس کے ارادے اور منشا سے واقع ہوتا ہے اتفاقی طور سے دنیا میں کوئی چیز نہیں اگر خدا تعالیٰ کا ذرّہ ذرّہ پر تصرف تام اور اقتدار نہ ہو تو وہ خدا ہی کیا ہوا اور دعاکی قبولیت کی اس سے کیا امید ہوسکتی ہے۔درحقیقت یہی ہے کہ وہ ہو اکو جد ھر چاہے اور جب چاہے چلا سکتا ہے اور جب ارادہ کرے بند کرسکتا ہے اسی کے ہاتھ میں پانی اور پا نیوں کے سمند ر ہیں جب چاہے جوش زن کر دے اور جب چاہے سا کن کر دے وہ ذرّہ ذرّہ پر قادر اور مقتد ر خدا ہے اس کے تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں وہ جنہوں نے دعا سے انکار ہی کر دیا ہے ان کو بھی یہی مشکلات پیش آئے ہیں کہ انہوں نے خدا کو ہر ذرّہ پر قادر مطلق نہ جانا اور اکثر واقعات کو اتفاقی مانا اتفاق کچھ بھی نہیں بلکہ جو ہوتا ہے اور اگر پتّا بھی درخت سے گرتا ہے تو وہ بھی خدا کے ارادے اور حکمت سے گرتا ہے اور یہ سب ملائکہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے اشارے سے کام کرتے ہیں اور ان کی خدمت میں لگائے جاتے ہیں جو خدا کے سچے فرمانبردار اور اسی کی رضا کے خواہاں ہوتے ہیں جو خدا کا بن جاتا ہے اسے خدا سب کچھ عطا کرتا ہے۔جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیر ا ہو مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ