ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 51

عیسائی بد نصیب اس اَمر کی طرف تو نہیں خیال کرتے کہ اوّل تو خد ااور اس کا مَرنا یہ دونوں فقرے آپس میں کیسے متضاد پڑے معلوم ہوتے ہیں جب ایک کان میں یہ آواز ہی پڑتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے کہ ایں یہ کیا لفظ ہیں؟اور پھر ماسوا اس کے ایسے ایک شخص کو خدا بنائے بیٹھے ہیں کہ جس نے بخیال ان کے ساری رات یعنی چار پہر کا وقت ایک لغو اور بیہودہ کام میں جو اس کے آقا و مولیٰ کی منشا اور رضا کے خلاف تھا خواہ مخواہ ضائع کیا اور پھر ساری رات رویا اورایسے درد اور گداز کے الفاظ میں دعا کی کہ لوہا بھی موم ہو مگر ایک بھی نہ سُنی گئی۔واہ! اچھا خدا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی رُوح انسانی تھی نہ رُوح الوہیت۔ہم پوچھتے ہیں کہ بھلا ان کی رُوح اگر انسانی تھی تو اس وقت ان کی الوہیت کی رُوح کہاں تھی؟ کیا وہ آرام کرتی تھی اور خوابِ غفلت میں غرقِ نوم تھی۔خود بیچارے نے بڑے درد اور رقّت کے ساتھ چِلّا چِلّا کے دعا کی، حواریوں سے دعا کرائی مگر سب بے فائدہ تھی۔وہاں ایک بھی نہ سنی گئی۔آخر کار خدا صاحب یہودیوں کے ہاتھ سے ملکِ عدم کو پہنچے۔کیسے قابلِ شرم اور افسوس ہیں ایسے خیالات۔ہمارے آنحضرتؐپر بھی ایسا ہی ایک وقت مصیبت اور صعوبت کا آیا تھا اور اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر ایک ایسا مشکل اور نہایت درجے کی مصیبت کا ایک وقت ضرور آتا ہے۔آنحضرتؐپر اُحد کا معاملہ کوئی تھوڑا معاملہ تھا؟ آخر کار وہاں شیطان بھی بول اُٹھا تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرتؐمارے گئے اور ہوسکتا ہے کہ بعض صحابہ ؓنے بھی اس افراتفری میں ایسا خیال کیا ہو اور بعض صحابہؓ تو تتر بتر بھی ہوگئے تھے۔آپؐایک گڑھے میں گِر پڑے تھے۔وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا(مریم:۷۲) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ضرور انبیاء اور صلحاء کو بھی دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نہایت درجے کی مصیبت کا وقت اور سخت جانکاہ مشکل ہوتی ہے اور اہل حق بھی ایک دفعہ اس صعو بت میں وارد ہوتے ہیں مگر خدا جلد تران کی خبر گیر ی کرتا اور ان کو اس سے نکال لیتا ہے اور چونکہ وہ ایک تقدیر معلّق ہوتی ہے اسی واسطے ان کی دعا ؤں اور ابتہال سے ٹل جایا کرتی ہیں۔