ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 50

استغفار اور توبہ کرتا رہے۔قضائِ معلّق دعا سے ٹل سکتی ہے اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ قضا ٹل جایا کرتی ہے اس لیے انسان پوری تضرع خشوع، خضوع اور حضورِ قلب سے اور سچی عاجزی، فروتنی اور دردِ دل سے اُس سے دعا کرے۔خواب میں دیکھے ہوئے معاملات کے متعلق خواہ وہ کسی رنگ میں ہوں۔دونوں صورتوں میں دعا کی ضرورت ہے۔ہمیں بارہا خیال آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو بھی کوئی ایک وحشت ناک ہی معاملہ معلوم ہوا ہوگا کہ انہوں نے ساری رات دعا میں صرف کی اور نہایت درجے کے درد انگیز اور بلبلانے والے الفاظ سے خدا کے حضور دعا کرتے رہے۔ممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر معلّق کو مبرم ہی خیال کر بیٹھے ہوں اور اسی وجہ سے ان کا یہ سارا اضطراب اور گھبراہٹ بڑھ گئی ہو اور اس درجے کا گداز اور رقّت ان میں اپنا آخری دم جان کر ہی پیدا ہوئی ہو۔کیونکہ اکثر ایک تقدیر جو معلّق ہوا کرتی ہے ایسی باریک رنگ میں ہوتی ہے کہ اس کو سرسری نظر سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبرم ہے۔چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ میری دعا سے اکثر وہ قضا جو قضاءِ مبرم کے رنگ میں ہوتی ہے ٹل جاتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں مگر ان کے اس اَمر کا جواب ایک اَور بزرگ نے دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تقدیر معلّق ایسے طور سے واقع ہوتی ہے کہ اس کا پہچاننا کہ آیا معلّق ہے یا مبرم محال ہوجاتا ہے۔اسے سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ مبر م ہے مگر درحقیقت ہوتی وہ تقدیر معلّق ہے اور وہ ایسی ہی تقدیریں ہوں گی جو شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے ٹل گئی ہوں کیونکہ تقدیر معلّق ٹل جایا کرتی ہے۔غرض اہل اللہ نے اس اَمر کو خوب واضح طور سے لکھا ہے کہ قضا معلّق ٹل جایا کرتی ہے۔حضر ت عیسیٰ پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑی بھاری صعوبت اور مشکل کا وقت تھا کیونکہ ان کی اپنی ہی کتاب کے الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ آخر میں فرمایا کہ سُـمِعَ لِتَقْوٰہُ یعنی تقدیر تو بڑی سخت تھی اور بڑی مصیبت کا وقت تھا مگر اس کی تقویٰ کی وجہ سے آخر کار اس کی دعا ضائع نہ گئی بلکہ سُنی گئی۔یہ