ملفوظات (جلد 5) — Page 48
الہامات کے دروازے کھول دیوے۔۱ ۱۲؍اپر یل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر) بیماری کی افادیت بیماریوں کے ذکر پر فرمایا کہ بیماری کی شدت سے موت اور موت سے خدا یاد آتا ہے۔اصل یہ ہے کہ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا ( النساء:۲۹) انسان چند روز کے لیے زندہ ہے۔ذرّہ ذرّہ کا وہی مالک ہے جو حیّ وقیوم ہے۔جب وقتِ موعود آجاتا ہے تو ہر ایک چیز السلام علیکم کہتی اور سارے قویٰ رخصت کرکے الگ ہو جاتے ہیں اور جہاں سے یہ آیا ہے وہیں چلا جاتا ہے۔طاعون کا علاج طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ آسمانی علاج ابھی تک لوگوں نے غیر مفید سمجھا ہوا ہے۔سچی توبہ اور تقوے کی طرف پورا رجوع نہیں کیا مگر یاد رکھیں کہ خد ارجوع کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔رکوع وسجود میں قرآنی دعا کرنا مولوی عبد القادر صاحب لودہانوی نے سوال کیا کہ رکوع اور سجود میں قرآنی آیت یادعا کا پڑ ھنا کیسا ہے؟ فرمایا۔سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا کا کلام عظمت چاہتا ہے ماسوائےاس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔رہن رہن کے متعلق سوال ہوا۔آپ نے فرمایا کہ موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں گذشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہوئی تو حکام زمینداروں سے معاملہ وصول کر لیا کرتے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہو جاتا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مطالبہ وصول کر ہی لیتے ہیں پس چونکہ حکامِ وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اسی طرح یہ رہن بھی جائز رہا کیونکہ کبھی فصل ہوتی اور کبھی نہیں ہوتی تو دونوں