ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 40

جب تک کوئی اپنے آپ کو گناہ سے نہ بچا وے گا اسے برکت نہ ہو گی یا درکھو کہ میں اس بات پر شاہد ہوں کہ میں نے تم کو سمجھا دیا ہے۔اب تم کو چاہیے کہ برائیوں سے بچنے کے واسطے خدا تعالیٰ سے دعا کرو تا کہ بچے رہو۔جو شخص بہت دعا کرتا ہے اس کے واسطے آسمان سے توفیق نازل کی جاتی ہے کہ گناہ سے بچے اور دعا کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ اسے مل جاتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا(الطّلاق:۳) یعنی جو امور اسے کشاں کشاں گناہ کی طرف لے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان امور سے بچنے کی توفیق اسے عطا فرماتا ہے۔قرآن کو بہت پڑھنا چاہیے اور پڑ ھنے کی توفیق خدا سے طلب کرنی چاہیے کیونکہ محنت کے سوا انسان کو کچھ نہیں ملتا۔کسان کو دیکھو کہ جب وہ زمین میں ہل چلا تا ہے اور قسم قسم کی محنت اٹھاتا ہے تب پھل حاصل کرتا ہے مگر محنت کے لیے زمین کا اچھا ہونا شرط ہے اسی طرح انسان کا دل بھی اچھا ہو سامان بھی عمدہ ہوسب کچھ کر بھی سکے تب جا کر فائدہ پاوے گا لَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (النجم:۴۰) دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط باندھنا چاہیے جب یہ ہوگا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا کو اپنے بندے پر خود رحم آ جاتا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچاتا ہے۔گناہ سے بچو۔نماز ادا کرو۔دین کو دنیا پر مقدم رکھو۔خدا کا سچا غلام وہی ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے۔لقاءِ الٰہی کا واسطہ قرآن اور آنحضرتؐہیں ہر ایک شخص کو خود بخود خدا سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپؐکو چھوڑتا ہے وہ کبھی بامُراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجائو۔قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ(الزّمر:۵۴) اس جگہ بندوں سے مُراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریمؐ کے بندہ ہونے